مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ وَضْعِ الْمِنْبَرِ وَحَنِينِ الْجِذْعِ
منبر رکھنے اور کھجور کے تنے کے رونے کا بیان
حدیث نمبر: 468
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ مِنْبَرًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَسْمَعُ النَّاسُ خُطْبَتَكَ؟ قَالَ:"نَعَمْ". وَصُنِعَ لَهُ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ، هِيَ الَّلَاتِي عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمَّا صُنِعَ الْمِنْبَرُ وَوُضِعَ مَوَاضِعَهُ الَّذِي وَضَعَهُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُومَ عَلَى ذَلِكَ الْمِنْبَرِ فَيَخْطُبَ عَلَيْهِ، فَمَرَّ إِلَيْهِ، فَلَمَّا جَاوَزَ ذَلِكَ الْجِذْعَ الَّذِي كَانَ يَخْطُبُ إِلَيْهِ خَارَ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا سَمِعَ صَوْتَ الْجِذْعِ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَكَانَ عِنْدَهُ فِي بَيْتِهِ حَتَّى بَلِيَ، وَأَكَلَتْهُ الْأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں جب مسجد کھجور کے چھتوں کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر نماز پڑھتے، اور اسی تنے کے ساتھ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم آپ کے لیے منبر نہ بنا دیں کہ آپ جمعہ کے دن اس پر کھڑے ہوں اور لوگ آپ کا خطبہ سنیں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے“۔ جب یہ منبر بنا تو اس پر تین سیڑھیاں تھیں، اور اس کو اس جگہ رکھا گیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات کہی گئی کہ آپ اس پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمائیں۔ جب آپ اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے قریب خطبہ دیتے تھے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا حتی کہ شدتِ غم سے اس کی آواز پھٹ گئی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تنے (کے رونے) کی آواز سنی تو آپ منبر سے اترے اور اس تنے کو دلاسہ دیا، پھر منبر پر تشریف لے آئے۔ جب مسجد گرائی گئی تو یہ تنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا اور یہ انہی کے گھر رہا یہاں تک کہ بوسیدہ ہو گیا، اور اسے دیمک نے کھا لیا اور یہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجمعة /حدیث: 468]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف، لضعف شیخ الشافعی ولضعف عبد اللہ بن محمد بن عقیل: اخرجـہ ابن ماجہ، الصلاة، باب ما جاء فی بدء شأن المنبر (1414)، واحمد: 137/5 . والدارمی (36).»
Musnad Shafi Hadith 468 in Urdu