🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. الجزء رقم2
دوسرے حصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 549
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، قَالَ: نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ. قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ. فَقَالَ:"إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آتِيَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ فِي مَقَامِكَ شَيْئًا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَأَنَّكَ تَكَعْكَعْتَ. قَالَ:"إِنِّي رَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ"، قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"بِكُفْرِهِنَّ"، قِيلَ: [ ص: 75 ] أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ  .
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور لوگ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے لمبا قیام کیا، فرمایا: سورۃ البقرہ کی تلاوت کے برابر، فرمایا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر کھڑے ہوئے تو قیام بھی لمبا کیا لیکن پہلے قیام سے کم، پھر لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا مگر پہلے قیام سے کم، پھر لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا۔ پھر آخر کار سلام پھیر دیا تو (اس دوران) سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو گرہن نہ کسی کی موت سے لگتا ہے اور نہ ہی زندگی سے، جب تم ان کو (گرہن میں) دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے دیکھا کہ (نماز میں) آپ اپنی جگہ سے آگے بڑھے اور پھر پیچھے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت دیکھی یا مجھے دکھائی گئی، اور اس کا خوشہ توڑنا چاہا تھا، اگر میں اسے توڑ لیتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے، اور میں نے جہنم دیکھی یا مجھے دکھائی گئی۔ اور میں نے اس سے بھیانک منظر نہیں دیکھا، میں نے اس میں عورتیں زیادہ ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اس کی کیا وجہ ہے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے کفر (انکار) کی وجہ سے۔ کہا گیا: کیا اللہ کا کفر (انکار) کرتی ہیں؟ فرمایا: شوہر کی ناشکری اور احسان فراموشی کی وجہ سے۔ زندگی بھر تم کسی عورت کے ساتھ حسن سلوک کرو، لیکن کبھی اگر کوئی خلاف مزاج بات آگئی تو فوراً کہے گی، میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الكسوف/حدیث: 549]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شيخ الشافعي والحسن البصري مدلس وعنعن اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (1992).»

Musnad Shafi Hadith 549 in Urdu