مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابٌ فِي حَمَامِ مَكَّةَ
مکہ کے کبوتروں کا بیان
حدیث نمبر: 899
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ الدَّارِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي خُصَيْفَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، قَالَ: قَدِمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَكَّةَ فَدَخَلَ دَارَ النَّدْوَةِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَقْرِبَ مِنْهَا الرَّوَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَأَلْقَى رِدَاءَهُ عَلَى وَاقِفٍ فِي الْبَيْتِ فَوَقَعَ عَلَيْهِ طَيْرٌ مِنْ هَذَا الْحَمَامِ فَأَطَارَهُ فَانْتَهَزَتْهُ حَيَّةٌ فَقَتَلَتْهُ، فَلَمَّا صَلَّى الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ عَلَيْهِ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَالَ: احْكُمَا عَلَيَّ فِي شَيْءٍ صَنَعْتُهُ الْيَوْمَ، أَنِّي دَخَلْتُ [ ص: 230 ] هَذِهِ الدَّارَ وَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَقْرِبَ مِنْهَا الرَّوَاحَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَأَلْقَيْتُ رِدَائِي عَلَى هَذَا الْوَاقِفِ فَوَقَعَ عَلَيْهِ طَيْرٌ مِنْ هَذَا الْحَمَامِ، فَخَشِيتُ أَنْ يَلْطَخَهُ بِسَلْحِهِ فَأَطَرْتُهُ عَنْهُ، فَوَقَعَ عَلَى هَذَا الْوَاقِفِ الْآخَرِ فَانْتَهَزَتْهُ حَيَّةٌ فَقَتَلَتْهُ، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي أَنِّي أَطَرْتُهُ مِنْ مَنْزِلٍ كَانَ فِيهِ آمِنًا إِلَى مَوْقِعَةٍ كَانَ فِيهَا حَتْفُهُ، فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ: كَيْفَ تَرَى فِي عَنْزٍ ثَنِيَّةٍ عَفْرَاءَ نَحْكُمُ بِهَا عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: أَرَى ذَلِكَ، فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
نافع بن عبد الحارث سے روایت ہے فرمایا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لائے تو جمعہ کے دن دار الندوہ میں داخل ہوئے۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ وہ قریب سے ہی مسجد چلے جائیں گے۔ انہوں نے اپنی چادر گھر میں کھڑی کسی چیز پر ڈال دی۔ تو اس پر ان کبوتروں میں سے ایک پرندہ آکر بیٹھ گیا۔ انہوں نے اسے اڑایا تو اسے ایک سانپ نے جھپٹ کر قتل کر دیا۔ جب جمعہ کی نماز پڑھ چکے تو میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ تو انہوں نے کہا: ”تم دونوں میرے ایک ایسے کام کے متعلق فیصلہ کرو جو آج میں نے کیا۔ میں اس گھر آیا اور ارادہ کیا کہ قریب سے ہی مسجد چلا جاؤں گا، میں نے اپنی چادر اس کھڑی چیز پر ڈال دی تو اس پر کبوتروں میں سے ایک پرندہ آکر بیٹھ گیا۔ مجھے ڈر لگا کہیں وہ اپنی بیٹ سے اسے گندہ نہ کر دے لہذا میں نے اسے اڑا دیا۔ تو وہ دوسری کھڑی چیز پر جا بیٹھا اور سانپ نے اسے جھپٹ کر قتل کر دیا۔ مجھے پریشانی ہوئی کہ میں نے اسے ایک ایسی جگہ سے اڑایا جہاں وہ امن سے تھا اور وہ ایک ایسی جگہ جا بیٹھا جہاں وہ قتل ہو گیا۔“ نافع کہتے ہیں، میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کا دوندی بکری کے متعلق کیا خیال ہے کہ ہم اس کا فدیہ دینے کا امیر المومنین کو کہیں۔“ تو انہوں نے کہا: ”میرا بھی یہی خیال ہے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے فدیہ کا حکم دیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الحج /حدیث: 899]
تخریج الحدیث: «إسنادہ ضعیف لجھالۃ طلحۃ بن أبی خصیفۃ: أخرجہ البیہقی: 5 / 205 - وفی معرفۃ السنن والآثار لہ (3211).»
Musnad Shafi Hadith 899 in Urdu