سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. بَابُ : عَدَدِ سُجُودِ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کریم میں سجود تلاوت کی تعداد۔
حدیث نمبر: 1057
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سَعِيدٍ الْعُتَقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ: مِنْهَا ثَلَاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ، وَفِي الْحَجِّ سَجْدَتَيْنِ".
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، ان میں سے تین سجدے مفصل میں اور دو سجدے سورۃ الحج میں ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1057]
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ”پندرہ سجدے پڑھائے جن میں تین مفصل سورتوں میں ہیں اور سورہٴ حج میں دو سجدے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 328 (1401)، (تحفة الأشراف: 10735) (ضعیف)» (اس کی سند میں حارث بن سعید العتقی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1401)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1401)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 415
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1401
| أقرأه خمس عشرة سجدة في القرآن منها ثلاث في المفصل وفي سورة الحج سجدتان |
سنن ابن ماجه |
1057
| أقرأه خمس عشرة سجدة في القرآن منها ثلاث في المفصل وفي الحج سجدتين |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1057 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1057
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم صحیح احادیث سے قرآن مجید میں 15 سجدوں کا ذکر ملتا ہے۔
جبکہ احناف اور شوافع 14 سجدوں کے قائل ہیں۔
احناف سورہ حج میں ایک سجدے کے قائل ہیں۔
جبکہ سورہ حج میں دو سجدوں کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔
یہ احادیث اگرچہ سنداً ضعیف ہیں۔
لیکن حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان کے کچھ شواہد بھی موجود ہیں۔
جو ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، سورة الأنبیاء، آیت: 18)
نیز محقق عصر شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (تعلیقات المشکاۃ، الصلاۃ، حدیث: 1030)
نیز ابوداؤد کی حدیث کو جس میں سورہ حج کے دو سجدوں کا ذکر ہے۔
ہمارے محقق نے حسن قرار دیا ہے۔
ملاحظہ ہو:
(سنن ابی داؤد، حدیث: 1402)
کی تحقیق وتخریج۔
شوافع سورۃ ص کے سجدے کے قائل نہیں ہیں۔
جبکہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ص کا سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (صحیح البخاري، سجود القرآن، حدیث: 1069)
الحاصل احادیث سے قرآن پاک میں 15 سجدوں کا ذکر ملتا ہے۔
لہٰذا قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے 15 مقامات پر سجدہ کرنا مستحب ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم صحیح احادیث سے قرآن مجید میں 15 سجدوں کا ذکر ملتا ہے۔
جبکہ احناف اور شوافع 14 سجدوں کے قائل ہیں۔
احناف سورہ حج میں ایک سجدے کے قائل ہیں۔
جبکہ سورہ حج میں دو سجدوں کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے۔
یہ احادیث اگرچہ سنداً ضعیف ہیں۔
لیکن حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان کے کچھ شواہد بھی موجود ہیں۔
جو ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، سورة الأنبیاء، آیت: 18)
نیز محقق عصر شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ (تعلیقات المشکاۃ، الصلاۃ، حدیث: 1030)
نیز ابوداؤد کی حدیث کو جس میں سورہ حج کے دو سجدوں کا ذکر ہے۔
ہمارے محقق نے حسن قرار دیا ہے۔
ملاحظہ ہو:
(سنن ابی داؤد، حدیث: 1402)
کی تحقیق وتخریج۔
شوافع سورۃ ص کے سجدے کے قائل نہیں ہیں۔
جبکہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ ص کا سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (صحیح البخاري، سجود القرآن، حدیث: 1069)
الحاصل احادیث سے قرآن پاک میں 15 سجدوں کا ذکر ملتا ہے۔
لہٰذا قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے 15 مقامات پر سجدہ کرنا مستحب ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1057]
Sunan Ibn Majah Hadith 1057 in Urdu
عبد الله بن منين المصري ← عمرو بن العاص القرشي