🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
103. . باب : ما جاء في إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
باب: فرض نماز کی اقامت کے بعد کوئی اور نماز نہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1151
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب فرض نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی بھی نماز نہیں ہوتی۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم مثل حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1151]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہوتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1151]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 9 (710)، سنن ابی داود/الصلاة 294 (1266)، سنن الترمذی/الصلاة 196 (421)، سنن النسائی/الإمامة 60 (866، 867)، (تحفة الأشراف: 14228)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/331، 455، 517، 531)، سنن الدارمی/الصلاة 149 (1488) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض نماز کے لیے تکبیر ہو جائے تو نفل پڑھنا جائز نہیں، وہ سنت موکدہ ہی کیوں نہ ہوں، بعض لوگوں نے فجر کی سنت کو اس سے مستثنیٰ اور الگ کیا ہے، لیکن یہ استثناء صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ مسلم بن خالد کی روایت میں جسے انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے، مزید وارد ہے «قيل: يا رسول الله! ولا ركعتي الفجر؟ قال: ولا ركعتي الفجر» اس کی تخریج ابن عدی نے یحییٰ بن نصر بن حاجب کے ترجمہ میں کی ہے، اور اس کی سند کو حسن کہا ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت جس کی تخریج بیہقی نے کی ہے، اور جس میں «إلا ركعتي الفجر» کا اضافہ ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس زیادتی کے متعلق بیہقی خود فرماتے ہیں «هذه الزيادة لا أصل لها» یعنی یہ اضافہ بے بنیاد ہے اس کی سند میں حجاج بن نصر اور عباد بن کثیر ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة ثبت
👤←👥زكريا بن إسحاق المكي
Newزكريا بن إسحاق المكي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد
Newروح بن عبادة القيسي ← زكريا بن إسحاق المكي
ثقة
👤←👥بكر بن خلف البصري، أبو بشر
Newبكر بن خلف البصري ← روح بن عبادة القيسي
ثقة
👤←👥أزهر بن القاسم الراسبي، أبو بكر
Newأزهر بن القاسم الراسبي ← بكر بن خلف البصري
ثقة
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← أزهر بن القاسم الراسبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
866
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
سنن النسائى الصغرى
867
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
صحيح مسلم
1644
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
صحيح مسلم
1646
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
جامع الترمذي
421
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
سنن أبي داود
1266
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
سنن ابن ماجه
1151
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
المعجم الصغير للطبراني
253
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
المعجم الصغير للطبراني
176
إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1151 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1151
اردو حاشہ:
فائدہگ:
جب جماعت کھڑی ہو تو اس کے ساتھ مل جانا چاہیے۔
اس وقت کوئی سنتیں یا نفل پڑھنا درست نہیں۔
بنا بریں اگرکوئی شخص سنتیں پڑھ رہا ہو۔
اورجماعت کھڑی ہو جائے تو سنتیں چھوڑ کرجماعت کے ساتھ مل جاناچاہیے۔
یہی بات راحج اور أقرب إلی الصواب ہے۔
البتہ بعض علماء کہتے ہیں کہ اگرسنتیں یا نوافل جو وہ ادا کررہا ہے تکبیر تحریمہ سے قبل مکمل ہونے کا یقین ہو تو وہ مکمل کرسکتا ہے ورنہ نہیں۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1151]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 866
اقامت کے بعد نفل یا سنت پڑھنے کی کراہت کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو سوائے فرض نماز کے اور کوئی نماز نہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 866]
866 ۔ اردو حاشیہ: جب کسی فرض نماز کی اقامت ہو جائے تو کوئی نفل یا کوئی فرض نماز شروع نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ جماعت کے اصول کے خلاف ہے اور اس سے جماعت کی اہمیت ختم ہو جائے گی، البتہ اگر کوئی شخص پہلے سے سنتیں وغیرہ پڑھ رہا ہے اور اسے جاری رکھنے میں فرض سے کچھ بھی فوت ہونے کا اندیشہ نہیں ہے (جیسے وہ تشہد میں ہو) تو علماء کی ایک رائے کے مطابق وہ نماز جاری رکھے اور جلد مکمل کرنے کی کوشش کرے تاکہ فرض نماز باجماعت پڑھ سکے۔ اگر اسے خطرہ ہے کہ جاری رکھنے کی صورت میں کچھ فرض نماز جماعت سے رہ جائے گی یا کوئی رکعت فوت ہو جائے گی تو نماز منقطع کر دے اور جماعت کے ساتھ مل جائے جبکہ بہتر یہ ہے کہ جونہی اقامت شروع ہو، نماز ترک کر دی جائے، خواہ نماز کے کسی بھی مرحلے میں ہو کیونکہ «فَلَا صَلَاةَ» کی واضح نص سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے شمار نہیں کیا جاتا اگرچہ بزعم خویش نماز جاری رکھے ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 866]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1266
امام فجر پڑھا رہا ہو اور آدمی نے سنت نہ پڑھی ہو تو اس وقت نہ پڑھے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہو جائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1266]
1266۔ اردو حاشیہ:
اس حدیث سے بھی جماعت کے ہوتے ہوئے سنتیں پڑھنے کی ممانعت کا اثبات ہوتا ہے اور بیہقی کی یہ روایت کہ جب جماعت کھڑی ہو جائے تو کوئی نماز نہیں سوائے فرض نماز کے الا یہ کہ صبح کی سنتیں ہوں۔ بالکل بے اصل اور ضعیف ہے۔ دیکھیے: [عون المعبود]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1266]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 421
جب جماعت کھڑی ہو جائے تو فرض کے سوا کوئی نماز جائز نہیں ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جماعت کھڑی ہو جائے ۱؎ تو فرض نماز ۲؎ کے سوا کوئی نماز (جائز) نہیں ۳؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 421]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی اقامت شروع ہو جائے۔

2؎:
یعنی جس کے لیے اقامت کہی گئی ہے۔

3؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض نماز کے لیے تکبیر ہو جائے تو نفل پڑھنا جائز نہیں،
خواہ وہ رواتب ہی کیوں نہ ہوں،
بعض لوگوں نے فجر کی سنت کو اس سے مستثنیٰ کیا ہے،
لیکن یہ استثناء صحیح نہیں،
اس لیے کہ مسلم بن خالد کی روایت میں کہ جسے انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کی ہے مزید وارد ہے،
((قِيْلَ يَارَسُوْلَ اللهِ وَلَا رَكَعَتَي الْفَجْرَ قَالَ وَلَا رَكَعَتَي الْفَجْرِ)) اس کی تخریج ابن عدی نے کامل میں یحییٰ بن نصر بن حاجب کے ترجمہ میں کی ہے،
اور اس کی سند کو حسن کہا ہے،
اور ابو ہریرہ کی روایت جس کی تخریج بیہقی نے کی ہے اور جس میں ((إلَّا رَكَعَتَي الصُّبْحَ)) کا اضافہ ہے:
کا جواب یہ ہے کہ اس زیادتی کے متعلق بیہقی خود فرماتے ہیں هذِهِ الزِّيَادَةُ لَا أَصْلَ لَهَا یعنی یہ اضافہ بے بنیاد ہے اس کی سند میں حجاج بن نصر اور عباد بن کثیر ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں،
اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 421]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، سنن ترمذی 421
نماز کی اقامت ہو جانے کے بعد نماز
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کی اقامت ہو جائے تو فرض نماز کے علاوہ دوسری کوئی نماز نہیں ہوتی۔ [صحيح مسلم ج1 ص247 ح710]
اس صحیح حدیث کے مقابلے میں لکھا ہے:
فجر کی سنتیں جماعت کھڑی ہونے کی صورت میں بھی پڑھنی جائز ہیں۔ [چهل حديث ص104!]
ابوعثمان الہندی کی طرف منسوب ایک روایت میں آیا ہے کہ عمر (رضی اللہ عنہ) کے پاس ہم فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے آیا کرت تھے جب کہ آپ نماز پڑھا رہے ہوتے، ہم مسجد کے آخر میں دو رکعت سنت پڑھ کر پھر لوگوں کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جاتے تھے۔ [شرح معاني الآثار 376/1، آثار السنن: 727]
اس کی سند جعفر بن میمون ( «ضعيف عند الجمهور» ) کی وجہ سے ضعیف ہے۔
دیکھئے میری کتاب: انوار السنن فی تحقیق آثار السنن [مخطوط ص146]
جعفر بن میمون کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:
وہ حدیث میں قوی نہیں ہے۔ [كتاب العلل و معرفة الرجال ص58 فقره: 4157]
لہٰذا نیموی کا اس سند کو حسن کہنا غلط ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو اقامت کے وقت دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو اسے کنکریوں سے مارا اور فرمایا: کیا تو چار رکعتیں پڑھتا ہے؟ [السنن الكبري للبيهقي 483/2 و سنده صحيح]
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جس کی صبح کی دو سنتیں رہ جائیں اور وہ فرض نماز کے بعد فور اً پڑھ لے، تو جائز ہے۔
دیکھئے: [صحيح ابن خزيمه ج2 ص164 ح1116 صحيح ابن حبان الاحسان: 2462 اور المستدرك للحاكم 274/1۔ 275 ح1017]
اسے حاکم اور ذہبی نے بھی صحیح کہا ہے اور اس روایت پر ابن عبدالبر کی جرح مردود ہے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ جس شخص نے فجر کی دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں، تو اسے چاہئے کہ وہ ان کو سورج نکلنے کے بعد پڑھے۔
[سنن الترمذي: 423، المستدرك 307/1 ح1153]
اس کی سند قتادہ مدلس (تقدم: 31) کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔
۔۔۔ اصل مضمون دیکھیں۔۔۔
فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص77
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 77]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1151M
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
امام ابن ماجہ نے ایک تیسری سند سے مذکورہ روایت کی مثل بیان کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1151M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة ثبت
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة متقن
👤←👥محمود بن غيلان العدوي، أبو أحمد
Newمحمود بن غيلان العدوي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة
Sunan Ibn Majah Hadith 1151 in Urdu