سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. . بَابُ : مَا يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں کون سی سورتیں پڑھے؟
حدیث نمبر: 1166
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرٍّ ، وَأَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں: «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1166]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب (کے فرضوں) کے بعد کی دو رکعتوں میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث زرعن عبد اللہ مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 926) وحدیث أبي وائل عن ابن سعود: أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 204 (431)، (تحفة الأشراف: 9278) (ضعیف)» (اس کی سند میں بدل بن المحبر اور عبد الملک بن الو لید ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: المشکاة: 851)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (431)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
إسناده ضعيف
ترمذي (431)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
431
| يقرأ في الركعتين بعد المغرب وفي الركعتين قبل صلاة الفجر ب قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد |
سنن ابن ماجه |
1166
| يقرأ في الركعتين بعد صلاة المغرب قل يا أيها الكافرون و قل هو الله أحد |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1166 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1166
اردو حاشہ:
فائده:
مذکورہ روایت کو بعض محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (الصحیحة، رقم: 3328)
فائده:
مذکورہ روایت کو بعض محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
دیکھئے: (الصحیحة، رقم: 3328)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1166]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 431
مغرب کے بعد دو رکعت پڑھنے اور ان میں قرأت کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں شمار نہیں کر سکتا کہ میں نے کتنی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے سنا ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 431]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں شمار نہیں کر سکتا کہ میں نے کتنی بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں اور فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے سنا ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 431]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کی دونوں سنتوں میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے۔
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مغرب کی دونوں سنتوں میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 431]
Sunan Ibn Majah Hadith 1166 in Urdu
شقيق بن سلمة الأسدي ← عبد الله بن مسعود