🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
114. . باب : ما جاء في الوتر
باب: وتر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1170
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ"، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ طاق (یکتا و بے نظیر) ہے، طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1170]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ وتر (اکیلا) ہے اور وتر (طاق عدد) کو پسند کرتا ہے، قرآن والو! وتر (کی نماز) پڑھا کرو۔ ایک اعرابی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے یا تیرے ساتھیوں کے لیے نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 336 (1417)، (تحفة الأشراف: 9627) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1417)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 419


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي، أبو عبيدة
Newأبو عبيدة بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥عمرو بن مرة المرادي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعمرو بن مرة المرادي ← أبو عبيدة بن عبد الله الهذلي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← عمرو بن مرة المرادي
ثقة حافظ
👤←👥عمر بن عبد الرحمن الأسدي، أبو حفص
Newعمر بن عبد الرحمن الأسدي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← عمر بن عبد الرحمن الأسدي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1170
الله وتر يحب الوتر أوتروا يا أهل القرآن
المعجم الصغير للطبراني
307
الوتر على أهل القرآن
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1170 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1170
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
آخری جملہ غالباً صحابی کا ارشاد ہے۔
جب اعرابی نے ارشا د نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب دریافت کرنا چاہا تو صحابی نے کہا کہ نماز تہجد اور اس طرح کے دوسرے مشکل اعمال پر تمہارا عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔
اس لئے تم یہ مسائل دریافت نہ کرو۔
یہ بھی ممکن ہے کہ جب اعرابی نے یہ سوال کیا۔
تو یہ جواب کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بجائے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہو کہ تم لوگ صرف فرائض پر عمل پیرا رہو تو وہ تم لوگوں کی نجات کےلئے کافی ہے۔
نفلی نمازیں اور تہجد وغیرہ تو وہ لوگ ادا کرسکتے ہیں۔
جونیکیوں کا بہت زیادہ شوق رکھتے ہوں۔
واللہ أعلم۔

(2)
قرآن والوں سےاگر حافظ قرآن مراد ہوں۔
تو وتر سے نمازتہجد مراد ہوگی۔
اور اعرابی لوگ قرآن کے حافظ نہیں ہوتے تھے۔
اس لئے کہا گیا کہ اس مسئلے کا تعلق تم جیسے عوام سے نہیں۔

(3)
یہ روایت بعض حضرات کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کےلئے گزشتہ حدیث کا فائدہ نمبر 1 ملاحظہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1170]

Sunan Ibn Majah Hadith 1170 in Urdu