سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
199. . باب : ما جاء في بدء شأن المنبر
باب: منبر رسول پہلے کیسے بنا؟
حدیث نمبر: 1415
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَحَنَّ الْجِذْعُ، فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ، فَسَكَنَ، فَقَالَ: لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1415]
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بنوایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کی طرف چلے تو وہ تنا (ستون) رو پڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اسے سینے سے لگایا، تب وہ خاموش ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اسے گلے سے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 389، 6297، ومصباح الزجاجة: 500)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/المناقب 6 (3631)، مسند احمد (1/ 249، 267، 266، 363)، سنن الدارمی/المقدمة 6 (40) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1415
| حن الجذع فأتاه فاحتضنه فسكن فقال لو لم أحتضنه لحن إلى يوم القيامة |
سنن الدارمي |
39
| لو لم أحتضنه لحن إلى يوم القيامة |
Sunan Ibn Majah Hadith 1415 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري