پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : ما جاء في فرض الصوم من الليل والخيار في الصوم
باب: فرض روزے کی نیت رات میں ضروری ہونے اور نفلی روزے میں اختیار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ الْقَطَوَانِيُّ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صِيَامَ لِمَنْ لَمْ يَفْرِضْهُ مِنَ اللَّيْلِ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کا روزی نہیں جو رات ہی میں اس کی نیت نہ کر لے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1700]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات سے روزے کا پختہ ارادہ نہ کرے، اس کا کوئی روزہ نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 71 (2454)، سنن الترمذی/الصوم 33 (730)، سنن النسائی/الصیام 39 (2333،)، (تحفة الأشراف: 15802)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصیام2 (5)، مسند احمد (6/278)، سنن الدارمی/الصوم 10 (1740) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: روزہ دار کے لیے رات میں نیت کرنے کا یہ حکم فرض اور قضا و کفارہ کے روزے کے سلسلہ میں ہے، نفلی صیام کے لئے رات میں نیت ضروری نہیں جیسا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے جو نیچے آگے رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2454) ترمذي (730) نسائي (2333)
الزھري مدلس وعنعن
وأخرج النسائي (2338) بإسناد صحيح كالشمس عن حفصة قالت: ’’لاصيام لمن لم يجمع قبل الفجر ‘‘ موقوف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2454) ترمذي (730) نسائي (2333)
الزھري مدلس وعنعن
وأخرج النسائي (2338) بإسناد صحيح كالشمس عن حفصة قالت: ’’لاصيام لمن لم يجمع قبل الفجر ‘‘ موقوف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2335
| من لم يجمع الصيام قبل طلوع الفجر فلا يصوم |
سنن ابن ماجه |
1700
| لا صيام لمن لم يفرضه من الليل |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1700 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1700
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذ کورہ روایت کو ہمارے فا ضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس مسئلہ کی بابت سنن النسائی میں بھی حضرت حفصہ سے مروی ہے وہ روا یت موقوفاً صحیح ہے۔ دیکھیے: (إرواء الغلیل: 30، 25/4، رقم: 914)
بنا بریں رات سے نیت کرنے کا مطلب شام سے کرنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے نیت کر لینی چاہیے خواہ رات کے کسی حصے میں نیت کی جائے جب بھی ارادہ بن جائے کہ صبح روزہ رکھنا ہے درست ہے
(2)
یہ حکم فرض اور واجب روزے کے لئے ہے نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے اسی طرح اگر نفلی روزہ بھی رکھا ہوا ہو تو دن میں کسی وقت بھی چھوڑا جا سکتا ہے اس میں کوئی گناہ نہیں جیسے اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
(3)
بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد قضا نذر اور کفا ر ہ وغیرہ کا روزہ ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذ کورہ روایت کو ہمارے فا ضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس مسئلہ کی بابت سنن النسائی میں بھی حضرت حفصہ سے مروی ہے وہ روا یت موقوفاً صحیح ہے۔ دیکھیے: (إرواء الغلیل: 30، 25/4، رقم: 914)
بنا بریں رات سے نیت کرنے کا مطلب شام سے کرنا نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ صبح صادق سے پہلے پہلے نیت کر لینی چاہیے خواہ رات کے کسی حصے میں نیت کی جائے جب بھی ارادہ بن جائے کہ صبح روزہ رکھنا ہے درست ہے
(2)
یہ حکم فرض اور واجب روزے کے لئے ہے نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے اسی طرح اگر نفلی روزہ بھی رکھا ہوا ہو تو دن میں کسی وقت بھی چھوڑا جا سکتا ہے اس میں کوئی گناہ نہیں جیسے اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
(3)
بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد قضا نذر اور کفا ر ہ وغیرہ کا روزہ ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1700]
Sunan Ibn Majah Hadith 1700 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← حفصة بنت عمر العدوية