🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب في ذكر الخوارج
باب: خوارج کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ قرآن تو ضرور پڑھیں گے، مگر وہ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 171]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ قرآن پڑھیں گے، (اس کے باوجود) وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح نشانہ بننے والے جانور میں سے تیر آر پار ہو جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6125، ومصباح الزجاجة: 64)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/256) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں سماک ضعیف ہیں، اوران کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن یہ حدیث دوسرے شواہد سے صحیح ہے، سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2221)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة متقن
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← سلام بن سليم الحنفي
صدوق يخطئ كثيرا
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← سويد بن سعيد الهروي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
171
ليقرأن القرآن ناس من أمتي يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 171 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث171
اردو حاشہ:
امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو خوارج کے باب میں ذکر کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس حدیث میں مذکور افراد سے مراد خوارج ہیں، تاہم حدیث کے الفاظ عام ہیں، لہذا اس وعید میں بعد کے زمانوں والے وہ لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں جو بظاہر مسلمان کہلاتے اور قرآن و حدیث پڑھتے ہیں، لیکن ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ غیر اسلامی رسم و رواج اور خلاف اسلام اعمال کو عین اسلام ثابت کیا جائے اور اس مقصد کے لیے وہ کبھی تو قرآن و حدیث کی نصوص میں معنوی تحریف کرتے ہیں، کبھی صحیح احادیث کا انکار کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ موجودہ حالات اور ترقی کے اس دور میں اسلام کے فلاں فلاں احکام قابل عمل نہیں رہے۔
اس طرح اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کے شر سے محفوظ رکھے۔
آمین.
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 171]

Sunan Ibn Majah Hadith 171 in Urdu