سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب : تزويج الأبكار
باب: کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ، فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ".
عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری لڑکیوں سے شادی کیا کرو، کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں اور زیادہ بچے جننے والی ہوتی ہیں، اور تھوڑے پہ راضی رہتی ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9756)، ومصباح الزجاجة: 661) (حسن)» (سند میں عبد الرحمن بن سالم مجہول ہے، لیکن جابر رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل (انظر السنن الكبري للبيهقي 7/ 87)
وللحديث شواهد ضعيفة،راجع التلخيص الحبير (145/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
إسناده ضعيف
السند مرسل (انظر السنن الكبري للبيهقي 7/ 87)
وللحديث شواهد ضعيفة،راجع التلخيص الحبير (145/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الرحمن بن عويم الأنصاري | مختلف في صحبته | |
👤←👥سالم بن عتبة الأنصاري سالم بن عتبة الأنصاري ← عبد الرحمن بن عويم الأنصاري | مجهول | |
👤←👥عبد الرحمن بن عتبة الأنصاري عبد الرحمن بن عتبة الأنصاري ← سالم بن عتبة الأنصاري | ضعيف الحديث | |
👤←👥محمد بن طلحة بن الطويل، أبو عبد الله محمد بن طلحة بن الطويل ← عبد الرحمن بن عتبة الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥إبراهيم بن المنذر الحزامي، أبو إسحاق إبراهيم بن المنذر الحزامي ← محمد بن طلحة بن الطويل | صدوق حسن الحديث |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1861 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1861
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے:
(الصحیحة، رقم: 623)
بنا بریں بیوہ اور مطلقہ سے بھی نکاح کر لینا چاہیے لیکن اگر بیوہ کا رشتہ بھی مل رہا ہو اور کنواری کا بھی تو کنواری کو ترجیح دینی چاہیے خصوصاً جب کہ مرد نوجوان ہو۔
(2)
شیریں دہن کا مطلب یہ ہے کہ ان میں حیا زیادہ ہوتی ہے اس لیے اپنے خاوند کو خوش رکھنے کی زیادہ کوشش کرتی ہیں اور تلخ لہجے میں بات کرنے سے پرہیز کرتی ہیں۔
بعض علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ان کا لعاب دہن زیادہ شیریں ہوتا ہے۔
(3)
جو عورت پہلے ایک خاوند کے ساتھ زندگی گزار چکی ہے اور اس کے بچے ہو چکے ہیں اب نئے شوہر سے اس کے بچے کم ہونے کی توقع ہے جب کہ کنواری لڑکی سے نکاح کے بعد جتنے بچے ہوں گے وہ سب اس خاوند کے ہوں گے۔
(4)
قناعت ایک اچھا وصف ہے جس عورت میں یہ صفت پائی جائے وہ اچھی بیوی ثابت ہو گی۔
فوائد ومسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیئے:
(الصحیحة، رقم: 623)
بنا بریں بیوہ اور مطلقہ سے بھی نکاح کر لینا چاہیے لیکن اگر بیوہ کا رشتہ بھی مل رہا ہو اور کنواری کا بھی تو کنواری کو ترجیح دینی چاہیے خصوصاً جب کہ مرد نوجوان ہو۔
(2)
شیریں دہن کا مطلب یہ ہے کہ ان میں حیا زیادہ ہوتی ہے اس لیے اپنے خاوند کو خوش رکھنے کی زیادہ کوشش کرتی ہیں اور تلخ لہجے میں بات کرنے سے پرہیز کرتی ہیں۔
بعض علماء نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ان کا لعاب دہن زیادہ شیریں ہوتا ہے۔
(3)
جو عورت پہلے ایک خاوند کے ساتھ زندگی گزار چکی ہے اور اس کے بچے ہو چکے ہیں اب نئے شوہر سے اس کے بچے کم ہونے کی توقع ہے جب کہ کنواری لڑکی سے نکاح کے بعد جتنے بچے ہوں گے وہ سب اس خاوند کے ہوں گے۔
(4)
قناعت ایک اچھا وصف ہے جس عورت میں یہ صفت پائی جائے وہ اچھی بیوی ثابت ہو گی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1861]
سالم بن عتبة الأنصاري ← عبد الرحمن بن عويم الأنصاري