سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب : حسن معاشرة النساء
باب: عورتوں سے اچھے سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1979
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" سَابَقَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَقْتُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1979]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ لگائی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1979]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16927)، سنن ابی داود/الجہاد 68 (2578)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/182) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑ میں مجھ سے آگے نکل گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! یہ پہلی دوڑ کا بدلہ ہے“ اس حدیث کے یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ شوہر کی حسن معاشرت اپنی بیویوں کے ساتھ معلوم ہو باوجود یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سن مبارک زیادہ تھا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کم سن تھیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خوش کرنے کے لئے ان کے ساتھ ایسا کرتے اور دوڑنا مباح ہے کچھ برا کھیل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2578
| هذه بتلك السبقة |
سنن ابن ماجه |
1979
| سابقني النبي فسبقته |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1979 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1979
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل ہوا، وہ کم سن تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کم سنی کا خیال کرتے ہوئے ان کو دل لگی کے مواقع فراہم کرتے تھے۔
(2)
بچوں اور بچیوں کو جائز تفریح کےمناسب مواقع فراہم کرنے چاہییں۔
(3)
گھرمیں سنجیدگی طاری کیے رکھنا درست نہیں۔
بیوی بچوں سے مناسب مزاح اور ان کا دل خوش کرنے کی کوشش کسی کی بزرگی کےمنافی نہیں۔
(4)
یہ سفر کا واقعہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
”تم لوگ آگے نکل جاؤ۔“
بعد میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ دوڑ لگائی۔
اس وقت وہ آگے نکل گئیں۔
کئی سال بعد پھر ایک سفر میں ایسا ہی ہوا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہن پیچھے رہ گئیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یہ پہلی دوڑ کا بدلہ اتر گیا“ دیکھیے: (سنن أبي داؤد، الجہاد، باب فی السبق علی الرجل، حدیث: 2578)
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا شرف حاصل ہوا، وہ کم سن تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی کم سنی کا خیال کرتے ہوئے ان کو دل لگی کے مواقع فراہم کرتے تھے۔
(2)
بچوں اور بچیوں کو جائز تفریح کےمناسب مواقع فراہم کرنے چاہییں۔
(3)
گھرمیں سنجیدگی طاری کیے رکھنا درست نہیں۔
بیوی بچوں سے مناسب مزاح اور ان کا دل خوش کرنے کی کوشش کسی کی بزرگی کےمنافی نہیں۔
(4)
یہ سفر کا واقعہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
”تم لوگ آگے نکل جاؤ۔“
بعد میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہن کے ساتھ دوڑ لگائی۔
اس وقت وہ آگے نکل گئیں۔
کئی سال بعد پھر ایک سفر میں ایسا ہی ہوا تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہن پیچھے رہ گئیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یہ پہلی دوڑ کا بدلہ اتر گیا“ دیکھیے: (سنن أبي داؤد، الجہاد، باب فی السبق علی الرجل، حدیث: 2578)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1979]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2578
پیدل دوڑ کے مقابلے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے (دوبارہ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2578]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہو گیا تو میں نے آپ سے (دوبارہ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2578]
فوائد ومسائل:
اس واقعہ میں یہ بیان ہے کہ گھریلو زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز انتہائی ملائمت اور الفت بھرا ہوتا تھا۔
نیز پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی کیا کرایا جا سکتا ہے۔
اس واقعہ میں یہ بیان ہے کہ گھریلو زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انداز انتہائی ملائمت اور الفت بھرا ہوتا تھا۔
نیز پیدل دوڑ کا مقابلہ بھی کیا کرایا جا سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2578]
Sunan Ibn Majah Hadith 1979 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق