علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. باب : التي وهبت نفسها للنبي صلى الله عليه وسلم
باب: جس عورت نے اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 2001
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ أَنَسٌ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟، فَقَالَتِ ابْنَتُهُ: مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا، قَالَ:" هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ".
ثابت کہتے ہیں کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے، ان کے پاس ان کی ایک بیٹی تھی، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور خود کو آپ پر پیش کیا اور بولی: کیا آپ کو میری حاجت ہے؟ یہ سن کر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولی: اس کو کتنی کم حیاء ہے! اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تجھ سے بہتر ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں رغبت کی، اس لیے خود کو آپ پر پیش کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2001]
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے اور ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھیں، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سے نکاح) کے لیے پیش کیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری خواہش ہے؟“”حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کہا: ”وہ کتنی بے شرم تھی!“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ تجھ سے افضل تھی، اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی وجہ سے اپنی ذات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2001]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 32 (5120)، الأدب 79 (6123)، سنن النسائی/النکاح 25 (3251)، (تحفة الأشراف: 468) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
الرواة الحديث:
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2001 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2001
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے مجلس میں موجود ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بے حجاب مردوں کے ساتھ بیٹھتی تھیں بلکہ پردے کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے اوراپنے والد کی موجودگی میں اس مجلس میں موجود تھیں۔
غیر محرموں کے ساتھ تنہائی کے بے تکلفانہ ملاقات کی اسلامی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔
(2)
علمی مجلس میں عورتیں مردوں کے ساتھ شریک ہوسکتی ہیں لیکن عورتوں کی جگہ الگ ہونی چاہیے، اختلاط جائز نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی کے مجلس میں موجود ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بے حجاب مردوں کے ساتھ بیٹھتی تھیں بلکہ پردے کے آداب کا خیال رکھتے ہوئے اوراپنے والد کی موجودگی میں اس مجلس میں موجود تھیں۔
غیر محرموں کے ساتھ تنہائی کے بے تکلفانہ ملاقات کی اسلامی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔
(2)
علمی مجلس میں عورتیں مردوں کے ساتھ شریک ہوسکتی ہیں لیکن عورتوں کی جگہ الگ ہونی چاہیے، اختلاط جائز نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2001]
Sunan Ibn Majah Hadith 2001 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري