🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب : الإيلاء
باب: ایلاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2059
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَمَكَثَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا حَتَّى إِذَا كَانَ مِسَاءَ ثَلَاثِينَ دَخَلَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، فَقَالَ:" شَهْرٌ هَكَذَا يُرْسِلُ أَصَابِعَهُ فِيهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَشَّهْرُ هَكَذَا وَأَرْسَلَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَمْسَكَ إِصْبَعًا وَاحِدًا فِي الثَّالِثَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ ۲۹ دن تک رکے رہے، جب تیسویں دن کی شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے کہا: آپ نے تو ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ اس طرح ہوتا ہے آپ نے دونوں ہاتھوں کی ساری انگلیوں کو کھلا رکھ کر تین بار فرمایا، اس طرح کل تیس دن ہوئے، پھر فرمایا: اور مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے اس بار دو دفعہ ساری انگلیوں کو کھلا رکھا، تیسری بار میں ایک انگلی بند کر لی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2059]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17919، ومصباح الزجاجة: 727)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/33، 105) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
Newعمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الرحمن الأنصاري، أبو الرجال، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن أبي الرجال الأنصاري
Newعبد الرحمن بن أبي الرجال الأنصاري ← محمد بن عبد الرحمن الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← عبد الرحمن بن أبي الرجال الأنصاري
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2059 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2059
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر خاوند کسی معقول وجہ سے ناراض ہو کر بیوی کےپاس کچھ مدت تک نہ جانے کی قسم لے تو یہ جائز ہے، اسے ایلاء کہا جاتا ہے۔

(2)
  ایلاء کی زیادہ سے زیادہ مدت چار مہینے ہے۔
اگر غیر معینہ مدت کی قسم کھالی ہو تو چار مہینے گزرنے کے بعد عورت اس کے خلاف دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔
اورعدالت اسے حکم دے گی کہ بیوی سے تعلقات قائم کرے یا طلاق دے۔ (مفہوم سورۃ بقرۃ آیت: 226، 227)
۔

(3)
  اگر خاوند نے چار ماہ یا اس سے کم مدت کےلیے قسم کھائی ہو اور مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے وہ تعلقات قائم کرے تواسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔
اور اگر مقررہ مدت تک اپنی قسم پر قائم رہے تو کفارہ نہیں ہوگا، نہ طلاق پڑے گی۔

(4)
  قسم کے کفارے کےلیے دیکھئے: (فوائد حدیث: 2107۔)

(5)
۔
ایلاء طلاق کے حکم میں نہیں۔
اس سے نہ ایک طلاق پڑتی ہے نہ زیادہ۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2059]