سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب : النهي أن يقال ما شاء الله وشئت
باب: یوں کہنا منع ہے ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“۔
حدیث نمبر: 2118
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ: فَقَالَ: نِعْمَ، الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ، تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُهَا لَكُمْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ".
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا: تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس بات کو جانتا ہوں (کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے)۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» ”جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں“ کہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے خواب میں دیکھا کہ اہل کتاب کے ایک آدمی (کسی یہودی یا عیسائی) سے اس کی ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا: ”تم (مسلمان) اچھے لوگ ہو، اگر شرک نہ کرو۔ تم کہتے ہو: «مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ» ”جو اللہ اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہیں۔““ اس آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اللہ کی! میں بھی تمہاری یہ بات محسوس کر رہا تھا۔ تم یوں کہا کرو: «مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ» ”جو اللہ چاہے، پھر جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تجفة الأشراف: 3318، ومصباح الزجاجة: 747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3935) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ کے بعد محمد کو رکھو تو حرج نہیں اس لئے کہ اللہ کے برابر کوئی نہیں، سب اس کے بندے اور غلام ہیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت ایسا کہنے سے منع فرمایا تو اب کسی ولی، پیر و مرشد اور فقیر و درویش کی کیا بساط ہے کہ وہ کسی کام کے کرنے یا ہونے یا نہ ہونے میں اللہ کے نام کے ساتھ شریک ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
عبدالملك بن عمير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 455
ضعيف
عبدالملك بن عمير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 455
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥ربعي بن حراش العبسي، أبو مريم ربعي بن حراش العبسي ← حذيفة بن اليمان العبسي | ثقة | |
👤←👥عبد الملك بن عمير اللخمي، أبو عمرو، أبو عمر عبد الملك بن عمير اللخمي ← ربعي بن حراش العبسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عبد الملك بن عمير اللخمي | ثقة حافظ حجة | |
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد هشام بن عمار السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي | صدوق جهمي كبر فصار يتلقن |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2118
| أما والله إن كنت لأعرفها لكم قولوا ما شاء الله ثم شاء محمد |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2118 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2118
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
”جو اللہ تعالیٰ، پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔“
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ چاہے گا صرف وہی ہوگا۔
دوسرے شخص کی مشیت اللہ کے تابع ہے۔
بہ یک وقت دونوں (خالق و مخلوق)
کی مشیت کو ایک قرار دینا واقعی شرک ہے۔
لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح کے بعد شرک کا شائبہ ختم ہو گا اسی لیے یہ ورایت بعض کے نزدیک حسن اور بعض کے نزدیک صحیح ہے۔
(2)
ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جن کا مناسب مفہوم بن سکتا ہو۔
(3)
شرعی مسائل خواب سے ثابت نہیں ہوتے لیکن اگر خواب میں کوئی ایسا اشارہ ملے جو قرآن و حدیث کی تعلیمات کے منافی نہ ہو تو اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(4)
صحابہ کرام رضی رضی اللہ عنہم اپنے خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سناتے تھے تاکہ اس کی تعبیر مل جائے اور یہ معلوم ہو جائے کہ خواب کی یہ بات ماننے کے قابل ہے یا نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
”جو اللہ تعالیٰ، پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں۔“
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ چاہے گا صرف وہی ہوگا۔
دوسرے شخص کی مشیت اللہ کے تابع ہے۔
بہ یک وقت دونوں (خالق و مخلوق)
کی مشیت کو ایک قرار دینا واقعی شرک ہے۔
لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح کے بعد شرک کا شائبہ ختم ہو گا اسی لیے یہ ورایت بعض کے نزدیک حسن اور بعض کے نزدیک صحیح ہے۔
(2)
ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جن کا مناسب مفہوم بن سکتا ہو۔
(3)
شرعی مسائل خواب سے ثابت نہیں ہوتے لیکن اگر خواب میں کوئی ایسا اشارہ ملے جو قرآن و حدیث کی تعلیمات کے منافی نہ ہو تو اس پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(4)
صحابہ کرام رضی رضی اللہ عنہم اپنے خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سناتے تھے تاکہ اس کی تعبیر مل جائے اور یہ معلوم ہو جائے کہ خواب کی یہ بات ماننے کے قابل ہے یا نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2118]
حدیث نمبر: 2118M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
اس سند سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاتی بھائی طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4992، ومصباح الزجاجة: 748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/72، 398)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 2118 in Urdu
ربعي بن حراش العبسي ← حذيفة بن اليمان العبسي