🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ : الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ
باب: نذر پوری کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ بِبُوَانَةَ، فَقَالَ:" فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَوْفِ بِنَذْرِكَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے مقام بوانہ میں قربانی کرنے کی نذر مانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے دل میں جاہلیت کا کوئی اعتقاد باقی ہے“؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2130]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے دل میں جاہلیت والی کوئی بات تو نہیں؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کر لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5486، ومصباح الزجاجة: 750) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی مکہ کے نشیب میں یا ینبوع کے پیچھے ایک جگہ ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بت یا قبر جس کی لوگ پوجا کریں، اس پر ذبح کرنا جائز نہیں، اور جو جانور اولیاء اللہ کی قبروں پر ذبح کئے جاتے ہیں اور انہی کے نام پر پالے جاتے ہیں ان کا کھانا حرام ہے، اگرچہ ذبح کے وقت اللہ تعالی کا نام لیا جائے، کیونکہ مقصود ان کے ذبح کرنے سے غیر اللہ کی تعظیم ہے، تو وہ «وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّهِ» (سورة البقرة: 173) میں سے ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
7115

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥حبيب بن أبي ثابت الأسدي، أبو يحيى
Newحبيب بن أبي ثابت الأسدي ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة فقيه جليل
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي
Newعبد الرحمن بن عبد الله المسعودي ← حبيب بن أبي ثابت الأسدي
صدوق اختلط قبل موته وضابطه أن من سمع منه ببغداد فبعد الاختلاط
👤←👥عبد الله بن رجاء الغداني، أبو عمرو، أبو عمر
Newعبد الله بن رجاء الغداني ← عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي
ثقة
👤←👥عبد الله بن إسحاق الجوهري، أبو محمد
Newعبد الله بن إسحاق الجوهري ← عبد الله بن رجاء الغداني
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد الله بن إسحاق الجوهري
ثقة حافظ جليل
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2130
أوف بنذرك
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2130 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2130
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  دل میں جاہلیت کی بات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تونے اس مقام کو اس لیے تو متعین نہیں کیا کہ دور جاہلیت میں اس مقام کو کسی قسم کے تقدس کا حامل سمجھا جاتا ہو اور اسی مزعومہ تقدس کے پیش نظر تو نے وہاں ذبح کرنے کی نذر مان لی۔

(2)
  بوانہ ساحل سمندر کے قریب ایک ٹیلہ ہے جو ینبوع کے پیچھے واقع ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2130]

Sunan Ibn Majah Hadith 2130 in Urdu