سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ : الاِقْتِصَادِ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ
باب: روزی کمانے میں میانہ روی اپنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ، فَإِنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَوْفِيَ رِزْقَهَا، وَإِنْ أَبْطَأَ عَنْهَا، فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حَرُمَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اللہ سے ڈرو، اور دنیا طلبی میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو، اس لیے کہ کوئی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنی روزی پوری نہ کر لے گو اس میں تاخیر ہو، لہٰذا اللہ سے ڈرو، اور روزی کی طلب میں اعتدال کا راستہ اختیار کرو، صرف وہی لو جو حلال ہو، اور جو حرام ہو اسے چھوڑ دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2144]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے (اعتدال کے ساتھ) روزی طلب کرو کیونکہ کوئی انسان اپنا رزق پورا کیے بغیر نہیں مرے گا اگرچہ اس (رزق کے حصول) میں دیر ہو جائے۔ چنانچہ اللہ سے ڈرو اور اچھے طریقے سے روزی طلب کرو۔ جو حلال ہے، وہ لے لو اور جو حرام ہے، وہ چھوڑ دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2880، ومصباح الزجاجة: 759) (صحیح)» (سند میں ولید بن مسلم، ابن جریج اور ابوالزبیر تینوں مدلس راوی ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2607)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
1021
الجامع الكامل حدیث نمبر :
1021
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2144
| اتقوا الله وأجملوا في الطلب إن نفسا لن تموت حتى تستوفي رزقها وإن أبطأ عنها اتقوا الله وأجملوا في الطلب خذوا ما حل ودعوا ما حرم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2144 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2144
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حلال روزی کا اہتمام کرنے والا روزی سے محروم نہیں رہتا۔
(2)
اللہ پر توکل کرتے ہوئے حرام روزی سے اجنتاب کرنا چاہیے۔
(3)
جس طرح دنیوی زندگی کی مدت مقرر ہے، اس میں کمی بیشی نہیں ہوگی، اسی طرح رزق بھی متعین ہے لیکن انسان کو اس کی صحیح یا غلط کوشش کی وجہ سے ثواب یا گناہ حاصل ہو جاتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
حلال روزی کا اہتمام کرنے والا روزی سے محروم نہیں رہتا۔
(2)
اللہ پر توکل کرتے ہوئے حرام روزی سے اجنتاب کرنا چاہیے۔
(3)
جس طرح دنیوی زندگی کی مدت مقرر ہے، اس میں کمی بیشی نہیں ہوگی، اسی طرح رزق بھی متعین ہے لیکن انسان کو اس کی صحیح یا غلط کوشش کی وجہ سے ثواب یا گناہ حاصل ہو جاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2144]
Sunan Ibn Majah Hadith 2144 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري