Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب : العارية
باب: عاریت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ جَمِيعًا، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ پر واجب ہے کہ جو وہ لے اسے واپس کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2400]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 90 (3561)، سنن الترمذی/البیوع 39 (1266)، (تحفة الأشراف: 4584)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/12، 13)، سنن الدارمی/البیوع 56 (2638) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حسن بصری ہیں، جنہوں نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نہیں سنی ہے، کیونکہ انہوں نے صرف سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث عقیقہ سنی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1516)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3561) ترمذي (1266)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 465

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← الحسن البصري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو
Newمحمد بن إبراهيم السلمي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥يحيى بن حكيم المقوم، أبو سعيد
Newيحيى بن حكيم المقوم ← محمد بن إبراهيم السلمي
ثقة حافظ مصنف
👤←👥محمد بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله الأنصاري ← يحيى بن حكيم المقوم
ثقة
👤←👥إبراهيم بن المستمر الهذلي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن المستمر الهذلي ← محمد بن عبد الله الأنصاري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1266
على اليد ما أخذت حتى تؤدي
سنن أبي داود
3561
على اليد ما أخذت حتى تؤدي ثم إن الحسن نسي فقال هو أمينك لا ضمان عليه
سنن ابن ماجه
2400
على اليد ما أخذت حتى تؤديه
بلوغ المرام
751
على اليد ما أخذت حتى تؤديه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2400 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2400
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہےلیکن یہ بات حق ہے کہ قرض امانت اورعاریتاً لی ہوئی چیز کی واپسی فرض ہے، اس کے دلائل قرآن مجید اوردیگر صحیح احادیث میں موجود ہیں مثلاً:
ارشاد باری تعالٰی ہے۔
:
﴿وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ﴾ (المومنون 74: 8)
 اور جولوگ اپنی امانتوں اوروعدوں کاخیال رکھتےہیں۔ (وہی مومن کامیاب ہیں۔)
اوردیکھیے(سنن ابن ماجة، حدیث: 2401)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2400]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 751
ادھار لی ہوئی چیز کا بیان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے۔ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 751»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في تضمين العارية، حديث:3561، والترمذي، البيوع، حديث:1266، وابن ماجه، الصدقات، حديث:2400، وأحمد:5 /8، 13، والنسائي في الكبرٰي:3 /411، حديث:5783.* قتادة عنعن.»
تشریح:
1. مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ لیکن یہ بات حق ہے کہ قرض‘ امانت اور عاریتاً لی ہوئی چیز کی واپسی فرض ہے‘ اس کے دلائل قرآن مجید اور دیگر صحیح احادیث میں موجود ہیں‘ مثلاً: ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ ﴾ (المؤمنون۲۳:۸) اور جو لوگ اپنی امانتوں اور وعدوں کا خیال رکھتے ہیں (وہی مومن کامیاب ہیں۔
) 2. ادھار لی ہوئی چیز کی ضمانت و ذمہ داری کس پر ہے؟ عاریتاً لینے والے پر ہے یا نہیں؟ اس کے بارے میں تین قول ہیں: پہلا قول تو یہ ہے کہ بہرصورت اس کی ضمانت و ذمہ داری عاریتاً لینے والے پر ہے‘ خواہ اس کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ‘ زید بن علی‘ عطاء‘ احمد‘ اسحاق اور امام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اگر ضمانت و ذمہ داری کی شرط نہ کی ہوگی تو وہ اس کا ضامن نہیں ہو گا جیسا کہ آگے حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت میں آرہا ہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ شرط کے باوجود بھی وہ ضامن نہیں ہو گا بشرطیکہ خیانت نہ کرے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 751]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3561
مانگی ہوئی چیز ضائع اور برباد ہو جائے تو ضامن کون ہو گا؟
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لینے والے ہاتھ کی ذمہ داری ہے کہ جو لیا ہے اسے واپس کرے پھر حسن بھول گئے اور یہ کہنے لگے کہ جس کو تو مانگنے پر چیز دے تو وہ تمہاری طرف سے اس چیز کا امین ہے (اگر وہ چیز خود سے ضائع ہو جائے تو اس پر کوئی تاوان (معاوضہ و بدلہ) نہ ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3561]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
اور حق یہ ہے کہ عاریتاً لی ہوئی کوئی چیز ہوجانے پر اس کی ضمان دینی ہوگی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3561]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1266
عاریت لی ہوئی چیز کو واپس کرنے کا بیان۔
سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک وہ اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے ۱؎، قتادہ کہتے ہیں: پھر حسن بصری اس حدیث کو بھول گئے اور کہنے لگے جس نے عاریت لی ہے وہ تیرا امین ہے، اس پر تاوان نہیں ہے، یعنی عاریت لی ہوئی چیز تلف ہونے پر تاوان نہیں ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1266]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ عاریت لی ہوئی چیز جب تک واپس نہ کر دے عاریت لینے والے پر واجب الاداء رہتی ہے،
عاریت لی ہوئی چیزکی ضمانت عاریت لینے والے پر ہے یا نہیں،
اس بارے میں تین اقوال ہیں:
پہلا قول یہ ہے کہ ہرصورت میں وہ اس کا ضامن ہے خواہ اس نے ضمانت کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو،
ابن عباس،
زیدبن علی،
عطاء،
احمد،
اسحاق اورامام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے،
دوسرا قول یہ ہے کہ اگر ضمانت کی شرط نہ کی ہوگی تو اس کی ذمہ داری اس پرعائد نہ ہوگی،
تیسرا قول یہ ہے کہ شرط کے باوجود بھی ضمانت کی شرط نہیں بشرطیکہ خیانت نہ کر ے اس حدیث سے پہلے قول کی تائید ہوتی ہے۔

نوٹ:
(قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں،
اور روایت عنعنہ سے ہے،
اس لیے یہ سند ضعیف ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1266]