سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : من ملك ذا رحم محرم فهو حر
باب: محرم رشتہ دار کی ملکیت میں آ جانے پر ان کے آزاد ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2524
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ وَعَاصِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن جائے تو وہ آزاد ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2524]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی محرم رشتے دار کا مالک بن گیا تو (اس کا) وہ (رشتے دار) آزاد ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب العتق/حدیث: 2524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/العتق 7 (3949)، سنن الترمذی/الأحکام 28 (1365)، (تحفة الأشراف: 4580، 4585)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/15، 18، 20) (صحیح)» (حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے، اور حاکم نے صحیح، اور ذہبی نے ان کی موافقت فرمائی ہے، حالانکہ سند میں حسن بصری ہیں، جن کا سماع سمرة رضی اللہ عنہ سے صرف حدیث عقیقہ کا ہے، دوسری کوئی حدیث ان سے نہیں سنی ہے، لیکن حدیث اپنے طرق و شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1746)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1365
| من ملك ذا رحم محرم فهو حر |
سنن أبي داود |
3949
| من ملك ذا رحم محرم فهو حر |
سنن ابن ماجه |
2524
| من ملك ذا رحم محرم فهو حر |
بلوغ المرام |
1224
| من ملك ذا رحم محرم فهو حر |
Sunan Ibn Majah Hadith 2524 in Urdu
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري