🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب : المرتد عن دينه
باب: دین اسلام سے مرتد ہو جانے والے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2536
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْ مُشْرِكٍ أَشْرَكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ عَمَلًا حَتَّى يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ".
معاویہ بن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی ایسے مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا جو اسلام لانے کے بعد شرک کرے، الا یہ کہ وہ پھر مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے مل جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2536]
حضرت بہز بن حکیم رحمہ اللہ اپنے والد (حضرت حکیم بن معاویہ رحمہ اللہ) سے اور وہ ان کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس مشرک کا کوئی عمل قبول نہیں کرتا جو اسلام لانے کے بعد مشرک ہو جائے حتی کہ وہ مشرکوں کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزکاة 1 (2438)، 73 (2569)، (تحفة الأشراف: 11388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/5) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی دار الکفر سے دار الاسلام میں آ جائے، مراد وہ دار الکفر ہے جہاں مسلمان اسلام کے ارکان اور عبادات بجا نہ لا سکیں، ایسی جگہ سے ہجرت کرنا فرض ہے اور بعضوں نے کہا: مسلمانوں کی جماعت میں شریک ہونے کا مقصدیہ ہے کہ کافروں کی عادات و اخلاق چھوڑ دے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن حيدة القشيري، أبو حكيمصحابي
👤←👥حكيم بن معاوية البهزي
Newحكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري
صدوق حسن الحديث
👤←👥بهز بن حكيم القشيري، أبو عبد الملك
Newبهز بن حكيم القشيري ← حكيم بن معاوية البهزي
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← بهز بن حكيم القشيري
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2438
بما بعثك ربك إلينا قال بالإسلام ما آيات الإسلام قال أن تقول أسلمت وجهي إلى الله وتخليت وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة
سنن النسائى الصغرى
2569
بما بعثك ربك إلينا قال بالإسلام ما آيات الإسلام قال أن تقول أسلمت وجهي إلى الله وتخليت وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة كل مسلم على مسلم محرم أخوان نصيران لا يقبل الله من مشرك بعدما أسلم عملا يفارق المشركين إلى المسلمين
سنن ابن ماجه
2536
لا يقبل الله من مشرك أشرك بعد ما أسلم عملا حتى يفارق المشركين إلى المسلمين
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2536 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2536
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دین تبدیل کرنے سے مراد اسلام چھوڑ کر دوسرامذہب اختیار کرنا ہے۔
کسی یہودی کا عیسائی ہوجانا یا مجوسی کا یہودی ہوجانا اس میں شامل نہیں۔

(2)
مرتد کے لیے توبہ کی گنجائش ہے۔
اگر وہ توبہ کرکےکافروں سے تعلق ختم کرلے اس کی توبہ قبول ہے اس صورت میں اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2536]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2438
زکاۃ کی فرضیت کا بیان۔
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں آپ کے پاس نہیں آیا یہاں تک کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ بار یہ قسم کھائی کہ نہ میں آپ کے قریب اور نہ آپ کے دین کے قریب آؤں گا۔ اور اب میں ایک ایسا آدمی ہوں کہ کوئی چیز سمجھتا ہی نہیں ہوں سوائے اس چیز کے جسے اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دی ہے، اور میں اللہ کی وحی کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے کیا چیز دے کر آپ کو ہمارے پا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2438]
اردو حاشہ:
(1) راوی حدیث صحابی کا نام معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ ہے۔
(2) یہ کہ تو کہے۔ اس سے مراد کلمہ ٔ شہادتین ہے۔ یا توحید پر پختگی مراد ہے کیونکہ کلمۂ شہادتین تو وہ پہلے پڑھ چکا ہوگا۔ آپ کو اللہ کا نبی کہہ کر پکارنا اس بات کی دلیل ہے۔
(3) اسلام مخالف تمام باتوں اور اشیاء سے براء ت اور بیزاری ہر مسلمان پر واجب ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2438]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2569
اللہ عزوجل کی ذات کا وسیلہ دے کر سوال کرنے کا بیان۔
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھانے کے بعد کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایک بے عقل اور ناسمجھ انسان ہوں (اب بھی کچھ نہیں سمجھتا) سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دیا ہے۔ میں اللہ کی ذات کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: اللہ نے آپ ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2569]
اردو حاشہ:
مسلمانوں سے آملے۔ یعنی ہجرت کر لے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلمانوں کی قوت مجتمع کرنے کی ضرورت تھی، نیز اہل کفر سے اس قدر مخاصمت تھی کہ دونوں کا اکٹھا رہنا اور دین پر عمل کرنا ناممکن تھا، اس لیے ہجرت فرض تھی۔ جب اسلام پھیل گیا اور کفر سکڑ گیا تو آپ نے اعلان فرما دیا کہ اب مکہ سے ہجرت کی ضرورت نہیں رہی۔ گویا ہجرت، لازمہ اسلام نہیں بلکہ اس کا فیصلہ حالات کے جائزے سے ہوگا۔ نہ ہر دارالکفر میں رہنا جائز ہے اور نہ ہر دارلکفر سے ہجرت واجب ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2569]

Sunan Ibn Majah Hadith 2536 in Urdu