سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب : الرجم
باب: زانی کو رجم کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2554
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ زَنَيْتُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، حَتَّى أَقَرَّ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ يَشْتَدُّ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ بِيَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ فَصَرَعَهُ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ فَقَالَ:" فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر کہا: میں نے زنا کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا یہاں تک کہ چار بار زنا کا اقرار کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیا جائے، چنانچہ جب ان پر پتھر پڑے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے، ایک شخص نے انہیں پا لیا، اس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز کو مار کر گرا دیا، پتھر پڑتے وقت ان کے بھاگنے کا تذکرہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا“؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2554]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”میں نے زنا کیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اس نے پھر کہا: ”میں نے زنا کیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ اس نے پھر (تیسری بار) کہا: ”میں نے زنا کیا ہے“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ اس نے پھر (چوتھی بار) کہا: ”میں نے زنا کیا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منہ پھیرتے رہے حتی کہ اس نے چار بار اقرار کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کیے جانے کا حکم دے دیا، چنانچہ جب اسے پتھر لگے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا۔ اسے ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی۔ اس نے وہی مار دی جس سے وہ گر گیا (اور جان دے دی۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پتھر لگنے پر اس کے بھاگنے کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا؟“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15034)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطلاق 11 (5270)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1694)، سنن ابی داود/الحدود 24 (4419)، سنن الترمذی/الحدود 5 (1428) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تاکہ ان سے پھر پوچھے شاید وہ اپنے اقرار سے پھر جاتے اور حد ساقط ہو جاتی، زنا کا اقرار ایک بار کرنا حد کے لئے کافی ہے، اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غامدیہ کو رجم کیا، اس نے ایک ہی بار اقرار کیا تھا، ایک یہودی اور یہودیہ کا رجم آگے مذکور ہو گا، اس میں بھی چار بار اقرار کا ذکر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله محمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | صدوق له أوهام | |
👤←👥عباد بن العوام الكلابي، أبو سهل عباد بن العوام الكلابي ← محمد بن عمرو الليثي | ثقة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عباد بن العوام الكلابي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4428
| أنكتها قال نعم قال حتى غاب ذلك منك في ذلك منها قال نعم قال كما يغيب المرود في المكحلة والرشاء في البئر قال نعم قال فهل تدري ما الزنا قال نعم أتيت منها حراما ما يأتي الرجل من امرأته حلالا قال فما تريد بهذا القول قال أريد أن تطهرني |
سنن ابن ماجه |
2554
| هلا تركتموه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2554 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2554
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اقرارسے زنا کا جرم ثابت ہوجاتا ہے۔
(2)
جرم کی سزا دینے کے لیے ضروری ہے کہ جرم کے ارتکاب کا علم ہو جائے اور کسی قسم کا شبہ نہ رہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا تھا:
کیا تجھے جنون کی شکایت تو نہیں۔ (صیحح البخاري، الحدود، باب لایرجم المجنون والمجنونة حدیث: 6815)
اس کے علاوہ اس سے پوچھا تھا:
شاید تونے بوسہ لیا ہو یا ہاتھ لگایا ہو یا (بری نیت سے)
دیکھا ہو (اورتو اسے زنا کہہ کر زنا کی سزا کا مطالبہ کررہا ہو)
۔
اس نے کہا نہیں اے اللہ کے رسول:
(صیحح البخاري، الحدود، باب ھل یقول الأمام للمقر:
لعلک لمست أوغمزت، حدیث: 6824)
(3)
اس واقعہ سے حضرت ماعزبن مالک کی عظمت ظاہر ہوتی ہے کہ انھوں نے محض اللہ کے ڈرسے حد کے ذریعے جان دینا قبول کی۔
(4)
ضرورت کے موقع پر ایسے الفاظ کہنا جائز ہے جنھیں عام حالات میں حیا کے منافی سمجھا جاتا ہے۔
(5)
حدود کانفاذ مسجد سےباہر کرنا چاہیے۔
(6)
جوشخص خود اپنے جرم کا اقرتر کرے اگر وہ اس کے بعد اقرارسے منحرف ہو جائے تو اسے سزا نہیں دی جائے گی۔
اس واقعہ سے امام ترمذی نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے۔ (جامع ترمذي، الحدود، باب ما جاء فی درءالحد عن المعترف إذا رجع، حدیث: 1428)
فوائد و مسائل:
(1)
اقرارسے زنا کا جرم ثابت ہوجاتا ہے۔
(2)
جرم کی سزا دینے کے لیے ضروری ہے کہ جرم کے ارتکاب کا علم ہو جائے اور کسی قسم کا شبہ نہ رہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا تھا:
کیا تجھے جنون کی شکایت تو نہیں۔ (صیحح البخاري، الحدود، باب لایرجم المجنون والمجنونة حدیث: 6815)
اس کے علاوہ اس سے پوچھا تھا:
شاید تونے بوسہ لیا ہو یا ہاتھ لگایا ہو یا (بری نیت سے)
دیکھا ہو (اورتو اسے زنا کہہ کر زنا کی سزا کا مطالبہ کررہا ہو)
۔
اس نے کہا نہیں اے اللہ کے رسول:
(صیحح البخاري، الحدود، باب ھل یقول الأمام للمقر:
لعلک لمست أوغمزت، حدیث: 6824)
(3)
اس واقعہ سے حضرت ماعزبن مالک کی عظمت ظاہر ہوتی ہے کہ انھوں نے محض اللہ کے ڈرسے حد کے ذریعے جان دینا قبول کی۔
(4)
ضرورت کے موقع پر ایسے الفاظ کہنا جائز ہے جنھیں عام حالات میں حیا کے منافی سمجھا جاتا ہے۔
(5)
حدود کانفاذ مسجد سےباہر کرنا چاہیے۔
(6)
جوشخص خود اپنے جرم کا اقرتر کرے اگر وہ اس کے بعد اقرارسے منحرف ہو جائے تو اسے سزا نہیں دی جائے گی۔
اس واقعہ سے امام ترمذی نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے۔ (جامع ترمذي، الحدود، باب ما جاء فی درءالحد عن المعترف إذا رجع، حدیث: 1428)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2554]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4428
ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کے رجم کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کر لیا ہے، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہو گیا“ بولا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں، اور رسی کنویں میں داخل ہو جاتی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4428]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے اپنے خلاف چار بار گواہی دی کہ اس نے ایک عورت سے جو اس کے لیے حرام تھی زنا کر لیا ہے، ہر بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ اس کی طرف سے پھیر لیتے تھے، پانچویں بار آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا عضو اس کے عضو میں غائب ہو گیا“ بولا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے ہی جیسے سلائی سرمہ دانی میں، اور رسی کنویں میں داخل ہو جاتی ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4428]
فوائد ومسائل:
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے بھی غیبت کرنے کو مسلمان مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیاہے۔
(سورة حجرات: 12) اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہےکہ غیبت کرنا کتنا قبیح فعل ہے۔
اور اگلی احادیث میں آرہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا یافتہ کو خیر اور اچھے الفاظ کے ساتھ یاد فرمایا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے بھی غیبت کرنے کو مسلمان مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیاہے۔
(سورة حجرات: 12) اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہےکہ غیبت کرنا کتنا قبیح فعل ہے۔
اور اگلی احادیث میں آرہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سزا یافتہ کو خیر اور اچھے الفاظ کے ساتھ یاد فرمایا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4428]
Sunan Ibn Majah Hadith 2554 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي