🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : من شرب الخمر مرارا
باب: باربار شراب پینے والے کی حد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2573
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاقْتُلُوهُمْ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو کوڑے لگاؤ، اس کے بعد بھی پئیں تب بھی کوڑے لگاؤ، اس کے بعد پئیں تو انہیں قتل کر دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2573]
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ شراب پی لیں تو انہیں کوڑے مارو۔ پھر اگر (دوبارہ) پئیں تو انہیں کوڑے مارو۔ اگر پھر (تیسری بار) پئیں تو انہیں کوڑے مارو۔ اگر پھر (چوتھی بار) پئیں تو انہیں قتل کر دو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 37 (4482)، سنن الترمذی/الحدود 15 (1444)، (تحفة الأشراف: 11412)، وقد أخرجہ: مسند احمد4/95، 96، 100) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث بھی منسوخ ہے جیسا کہ اوپر گزرا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معاوية بن أبي سفيان الأموي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← معاوية بن أبي سفيان الأموي
ثقة ثبت
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر
Newعاصم بن أبي النجود الأسدي ← أبو صالح السمان
صدوق حسن الحديث
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر
Newسعيد بن أبي عروبة العدوي ← عاصم بن أبي النجود الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥شعيب بن إسحاق القرشي، أبو محمد
Newشعيب بن إسحاق القرشي ← سعيد بن أبي عروبة العدوي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← شعيب بن إسحاق القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2573
إذا شربوا الخمر فاجلدوهم ثم إذا شربوا فاجلدوهم ثم إذا شربوا فاجلدوهم ثم إذا شربوا فاقتلوهم
بلوغ المرام
1065
إذا شرب فاجلدوه ثم إذا شرب الثانية فاجلدوه ثم إذا شرب الثالثة فاجلدوه ثم إذا شرب الرابعة فاضربوا عنقه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2573 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2573
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا:
پہلے یہ حکم تھا بعد میں (قتل کا حکم)
منسوخ ہوگیا۔
امام محمد بن اسحاق نے محمد بن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جوشخص شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ اگر چوتھی بار پیئے تواسے قتل کر دو۔
حضرت جابر نے فرمایا:
بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص پیش کیا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی تو آپ نے اسے مارا لیکن قتل نہیں کیا۔
زہری نےقبیصہ بن زوہیب کے واسطے سےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی ہے فرمایا:
چنانچہ قتل کا حکم منسوخ ہوگیا ہے اور یہ رخصت حاصل ہوگئی (حکم نرم ہوگیا۔)
اکثر علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق اس مسئلے میں ان نہ قدیم دور (صحابہ کرام کےزمانے)
میں کوئی اختلاف تھا نہ بعد کےدور میں اختلاف ہوا---- (جامع الترمذي، الحدود، باب ماجاء من شرب الخمرفاجلدوہ ومن عاد في الرابعه فاقتلوہ، حدیث: 1444)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2573]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1065
شراب پینے والے کی حد اور نشہ آور چیزوں کا بیان
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کے متعلق فرمایا جب وہ شراب پئے تو اسے کوڑے مارو۔ پھر دوبار شراب نوشی کرے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر جب تیسری مرتبہ شراب پئے تو پھر کوڑے لگاؤ مگر جب چوتھی دفعہ شراب نوشی کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔ اسے احمد نے بیان کیا ہے اور یہ الفاظ اسی کے ہیں اور چاروں نے بھی روایت کیا ہے اور ترمذی نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ تو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا قتل کرنا منسوخ ہے اور ابوداؤد نے صراحت کے ساتھ زہری سے اس کی تخریج کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1065»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الحدود، باب إذا تتابع في شرب الخمر، حديث:4482، والترمذي، الحدود، حديث:1444، وابن ماجه الحدود، حديث:2573، والنسائي في الكبرٰي:3 /256، حديث:5299، وأحمد:4 /96، 101،389.»
تشریح:
1. چند ایک اہل ظاہر کے سوا تمام فقہاء اس حدیث کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں۔
2.خون بہانے کی بہ نسبت خون کی حفاظت کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا و اتباع بہتر اور اولیٰ ہے۔
3.دیگر احادیث میں صراحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے بعد چوتھی بار شراب نوشی پر قتل نہیں کیا تھا صرف کوڑوں کی سزا پر اکتفا فرمایا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ فَاقْـتُـلُوہُ یا فَاضْرِبُوا عُنُقَہُکا حکم یا تو منسوخ ہے یا زجر و توبیخ کے لیے ہے۔
4. امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ بالاتفاق شراب پینے والے شخص کے لیے کسی صورت بھی موت کی سزا نہیں ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1065]

Sunan Ibn Majah Hadith 2573 in Urdu