سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : من شرب الخمر مرارا
باب: باربار شراب پینے والے کی حد کا بیان۔
حدیث نمبر: 2573
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا شَرِبُوا الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاجْلِدُوهُمْ، ثُمَّ إِذَا شَرِبُوا فَاقْتُلُوهُمْ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب لوگ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ، پھر پئیں تو کوڑے لگاؤ، اس کے بعد بھی پئیں تب بھی کوڑے لگاؤ، اس کے بعد پئیں تو انہیں قتل کر دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2573]
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ شراب پی لیں تو انہیں کوڑے مارو۔ پھر اگر (دوبارہ) پئیں تو انہیں کوڑے مارو۔ اگر پھر (تیسری بار) پئیں تو انہیں کوڑے مارو۔ اگر پھر (چوتھی بار) پئیں تو انہیں قتل کر دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 37 (4482)، سنن الترمذی/الحدود 15 (1444)، (تحفة الأشراف: 11412)، وقد أخرجہ: مسند احمد4/95، 96، 100) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث بھی منسوخ ہے جیسا کہ اوپر گزرا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
2573
| إذا شربوا الخمر فاجلدوهم ثم إذا شربوا فاجلدوهم ثم إذا شربوا فاجلدوهم ثم إذا شربوا فاقتلوهم |
بلوغ المرام |
1065
| إذا شرب فاجلدوه ثم إذا شرب الثانية فاجلدوه ثم إذا شرب الثالثة فاجلدوه ثم إذا شرب الرابعة فاضربوا عنقه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2573 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2573
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا:
پہلے یہ حکم تھا بعد میں (قتل کا حکم)
منسوخ ہوگیا۔
امام محمد بن اسحاق نے محمد بن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جوشخص شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ ”اگر چوتھی بار پیئے تواسے قتل کر دو۔“
حضرت جابر نے فرمایا:
بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص پیش کیا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی تو آپ نے اسے مارا لیکن قتل نہیں کیا۔
زہری نےقبیصہ بن زوہیب کے واسطے سےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی ہے فرمایا:
چنانچہ قتل کا حکم منسوخ ہوگیا ہے اور یہ رخصت حاصل ہوگئی (حکم نرم ہوگیا۔)
اکثر علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق اس مسئلے میں ان نہ قدیم دور (صحابہ کرام کےزمانے)
میں کوئی اختلاف تھا نہ بعد کےدور میں اختلاف ہوا----“ (جامع الترمذي، الحدود، باب ماجاء من شرب الخمرفاجلدوہ ومن عاد في الرابعه فاقتلوہ، حدیث: 1444)
فوائد و مسائل:
امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا:
پہلے یہ حکم تھا بعد میں (قتل کا حکم)
منسوخ ہوگیا۔
امام محمد بن اسحاق نے محمد بن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جوشخص شراب پیئے اسے کوڑے لگاؤ ”اگر چوتھی بار پیئے تواسے قتل کر دو۔“
حضرت جابر نے فرمایا:
بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص پیش کیا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی تو آپ نے اسے مارا لیکن قتل نہیں کیا۔
زہری نےقبیصہ بن زوہیب کے واسطے سےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی ہے فرمایا:
چنانچہ قتل کا حکم منسوخ ہوگیا ہے اور یہ رخصت حاصل ہوگئی (حکم نرم ہوگیا۔)
اکثر علماء کے نزدیک اس پر عمل ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق اس مسئلے میں ان نہ قدیم دور (صحابہ کرام کےزمانے)
میں کوئی اختلاف تھا نہ بعد کےدور میں اختلاف ہوا----“ (جامع الترمذي، الحدود، باب ماجاء من شرب الخمرفاجلدوہ ومن عاد في الرابعه فاقتلوہ، حدیث: 1444)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2573]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1065
شراب پینے والے کی حد اور نشہ آور چیزوں کا بیان
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کے متعلق فرمایا ” جب وہ شراب پئے تو اسے کوڑے مارو۔ پھر دوبار شراب نوشی کرے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر جب تیسری مرتبہ شراب پئے تو پھر کوڑے لگاؤ مگر جب چوتھی دفعہ شراب نوشی کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔ “ اسے احمد نے بیان کیا ہے اور یہ الفاظ اسی کے ہیں اور چاروں نے بھی روایت کیا ہے اور ترمذی نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ تو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا قتل کرنا منسوخ ہے اور ابوداؤد نے صراحت کے ساتھ زہری سے اس کی تخریج کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1065»
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کے متعلق فرمایا ” جب وہ شراب پئے تو اسے کوڑے مارو۔ پھر دوبار شراب نوشی کرے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر جب تیسری مرتبہ شراب پئے تو پھر کوڑے لگاؤ مگر جب چوتھی دفعہ شراب نوشی کرے تو اس کی گردن اڑا دو۔ “ اسے احمد نے بیان کیا ہے اور یہ الفاظ اسی کے ہیں اور چاروں نے بھی روایت کیا ہے اور ترمذی نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ تو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا قتل کرنا منسوخ ہے اور ابوداؤد نے صراحت کے ساتھ زہری سے اس کی تخریج کی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1065»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الحدود، باب إذا تتابع في شرب الخمر، حديث:4482، والترمذي، الحدود، حديث:1444، وابن ماجه الحدود، حديث:2573، والنسائي في الكبرٰي:3 /256، حديث:5299، وأحمد:4 /96، 101،389.» تشریح:
1. چند ایک اہل ظاہر کے سوا تمام فقہاء اس حدیث کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں۔
2.خون بہانے کی بہ نسبت خون کی حفاظت کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا و اتباع بہتر اور اولیٰ ہے۔
3.دیگر احادیث میں صراحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے بعد چوتھی بار شراب نوشی پر قتل نہیں کیا تھا صرف کوڑوں کی سزا پر اکتفا فرمایا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ فَاقْـتُـلُوہُ یا فَاضْرِبُوا عُنُقَہُکا حکم یا تو منسوخ ہے یا زجر و توبیخ کے لیے ہے۔
4. امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ بالاتفاق شراب پینے والے شخص کے لیے کسی صورت بھی موت کی سزا نہیں ہے۔
«أخرجه أبوداود، الحدود، باب إذا تتابع في شرب الخمر، حديث:4482، والترمذي، الحدود، حديث:1444، وابن ماجه الحدود، حديث:2573، والنسائي في الكبرٰي:3 /256، حديث:5299، وأحمد:4 /96، 101،389.»
1. چند ایک اہل ظاہر کے سوا تمام فقہاء اس حدیث کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں۔
2.خون بہانے کی بہ نسبت خون کی حفاظت کرنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا و اتباع بہتر اور اولیٰ ہے۔
3.دیگر احادیث میں صراحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے بعد چوتھی بار شراب نوشی پر قتل نہیں کیا تھا صرف کوڑوں کی سزا پر اکتفا فرمایا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ فَاقْـتُـلُوہُ یا فَاضْرِبُوا عُنُقَہُکا حکم یا تو منسوخ ہے یا زجر و توبیخ کے لیے ہے۔
4. امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ بالاتفاق شراب پینے والے شخص کے لیے کسی صورت بھی موت کی سزا نہیں ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1065]
Sunan Ibn Majah Hadith 2573 in Urdu
أبو صالح السمان ← معاوية بن أبي سفيان الأموي