Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب : ما لا قود فيه
باب: جن چیزوں میں قصاص نہیں بلکہ دیت ہے ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنِ ابْنِ صُهْبَانَ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا قَوَدَ فِي الْمَأْمُومَةِ وَلَا الْجَائِفَةِ وَلَا الْمُنَقِّلَةِ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو زخم دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے، یا ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جائے، تو اس میں قصاص نہ ہو گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5139، ومصباح الزجاجة: 931) (حسن)» ‏‏‏‏ (تراجع الألبانی: رقم: (390)
وضاحت: ۱؎: جن زخموں کی دیت میں برابری ہو سکے ان میں قصاص کا حکم دیا جائے گا، مثلاً کوئی عضو جوڑ سے کاٹ ڈالے تو کاٹنے والے کا بھی وہی عضو جوڑ پر سے کاٹا جائے گا، اور جن زخموں میں برابری نہ ہو سکے تو ان میں قصاص کا حکم نہ ہو گا بلکہ دیت دلائی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رشدين بن سعد: ضعيف
وللحديث شاهد ضعيف وأخرج البيهقي (65/8) بإسناد حسن عن طلحة رضي اللّٰه عنه أن النبي ﷺ قال: ((ليس في المأمومة قود))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥العباس بن عبد المطلب الهاشمي، أبو الفضلصحابي
👤←👥عقبة بن صهبان الأزدي
Newعقبة بن صهبان الأزدي ← العباس بن عبد المطلب الهاشمي
ثقة
👤←👥معبد بن سيرين الأنصاري، أبو يحيى
Newمعبد بن سيرين الأنصاري ← عقبة بن صهبان الأزدي
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← معبد بن سيرين الأنصاري
صدوق له أوهام
👤←👥رشدين بن أبي رشدين المهري، أبو الحجاج
Newرشدين بن أبي رشدين المهري ← معاوية بن صالح الحضرمي
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← رشدين بن أبي رشدين المهري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
2637
لا قود في المأمومة ولا الجائفة ولا المنقلة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2637 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2637
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ بعض محققین نے حسن قراردیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھئے: (الصیحیة للألبانی، رقم: 2190)
بنابریں اس قسم کے زخم، جن کا برابر برابر بدلہ نہ لیا جاسکے، ان کا قصاص نہیں ہوتا کیونکہ ممکن ہے مجرم کو اس سے کم یا زیادہ نقصان پہنچے جتنا اس نے پہنچایا ہے، اس لیے ایسے معاملات میں مالی جرمانے (دیت)
کا فیصلہ کیا جاتا ہے جس کا تعین زخم کی نوعیت اور شدت کی بنا پر کیا جاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2637]