سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب : السرايا
باب: سریہ (فوجی دستوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2828
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ:" كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَ بَدْرٍ ثَلَاثَ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ، مَنْ جَازَ مَعَهُ النَّهَرَ وَمَا جَازَ مَعَهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم برابر گفتگو کرتے رہتے تھے کہ غزوہ بدر میں صحابہ کی تعداد تین سو دس سے کچھ اوپر تھی، اور یہی تعداد طالوت کے ان ساتھیوں کی بھی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ نہر پار کی (یاد رہے کہ) ان کے ساتھ صرف اسی شخص نے نہر پار کی تھی جو ایمان والا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2828]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 6 (3959)، (تحفة الأشراف: 1851)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر 38 (1598) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري | ثقة مكثر | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أبو إسحاق السبيعي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الملك بن عمرو القيسي، أبو عامر عبد الملك بن عمرو القيسي ← سفيان الثوري | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← عبد الملك بن عمرو القيسي | ثقة حافظ |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2828 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2828
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جنگ میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی تعداد مشہور قول کے مطابق تین سو تیرہ تھی جن میں سے 231 مجاہد انصاری تھے۔
(ا)
قبیلہ اوس سے 61 اور قبیلہ خزرج سے 170۔
مہاجرین کی تعداد مشہور قول کے مطابق 82 تھی۔
بعض علماء نے 83 یا 82 بیان کی ہے۔
اس وجہ سے کل لشکر کی تعداد بھی 314 یا 317 ذکر کی گئی ہے۔ دیکھیے۔ (الرحيق المختوم، مولانا صفي الرحمن مبارك پوري رحمة الله)
(2)
طالوت اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ سورۃ بقرۃ آیت: 246 تا 251 میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
(3)
جس طرح حضرت طالوت کا ساتھ دینے والے پکے مومن تھے اسی طرح غزوہ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کامل مومن تھے۔
اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔
فوائد و مسائل:
(1)
جنگ میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی تعداد مشہور قول کے مطابق تین سو تیرہ تھی جن میں سے 231 مجاہد انصاری تھے۔
(ا)
قبیلہ اوس سے 61 اور قبیلہ خزرج سے 170۔
مہاجرین کی تعداد مشہور قول کے مطابق 82 تھی۔
بعض علماء نے 83 یا 82 بیان کی ہے۔
اس وجہ سے کل لشکر کی تعداد بھی 314 یا 317 ذکر کی گئی ہے۔ دیکھیے۔ (الرحيق المختوم، مولانا صفي الرحمن مبارك پوري رحمة الله)
(2)
طالوت اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ سورۃ بقرۃ آیت: 246 تا 251 میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
(3)
جس طرح حضرت طالوت کا ساتھ دینے والے پکے مومن تھے اسی طرح غزوہ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کامل مومن تھے۔
اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے افضل تھے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2828]
أبو إسحاق السبيعي ← البراء بن عازب الأنصاري