🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
93. بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ إِذَا لَمْ يُصَدْ لَهُ
باب: محرم کے لیے شکار نہ کیا گیا ہو تو اس کے کھانے کی رخصت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3092
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ حِمَارَ وَحْشٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُفَرِّقَهُ فِي الرِّفَاقِ، وَهُمْ مُحْرِمُونَ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک نیل گائے دی، اور حکم دیا کہ اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں، اور وہ سب محرم تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3092]
حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گورخر (کا گوشت) دیا، اور حکم دیا کہ ”اسے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں“ جب کہ وہ سب احرام باندھے ہوئے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5006، ومصباح الزجاجة: 1073) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں علت ہے، اور متن میں غلطی، صحیح روایت نسائی کی ہے، ملاحظہ ہو: سنن النسائی: 2218)
قال الشيخ الألباني: إسناده معلول
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان بن عينة عنعن
والصحيح ما رواه النسائي (183/5 ح 2820) وغيره بغير ھذا اللفظ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 487


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥طلحة بن عبيد الله القرشي، أبو محمدصحابي
👤←👥عيسى بن طلحة القرشي، أبو محمد
Newعيسى بن طلحة القرشي ← طلحة بن عبيد الله القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← عيسى بن طلحة القرشي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة حافظ حجة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← سفيان بن عيينة الهلالي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3092
أعطاه حمار وحش وأمره أن يفرقه في الرفاق وهم محرمون
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3092 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3092
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے جبکہ معناً صحیح ہےجیسا کہ سنن نسائی کی روایت سے ثابت ہے کہ آپ نے گوشت نہیں کھایا تھا۔ (سنن النسائي، مناسك الحج، باب مايجوز اكله من الصيد حديث: 2819)
لہٰذا جو شکار کسی نے اپنے لیے کیا ہوپھر وہ احرام والے کو دے دے تو احرام کی حالت میں اس کا گوشت کھانا جائز ہے جیساکہ درج ذیل روایت سے بھی یہ مسئلہ ثابت ہے۔

(2)
یہ ہدیہ پیش کرنے والے حضرت بہزی رضی اللہ عنہ تھے۔ (سنن النسائي، مناسك الحج، باب مايجوز اكله من الصيد، حديث: 2820)
 ایک قول کے مطابق ان کا نام حضرت زید بن کعب رضی اللہ عنہ تھا۔ (تقريب التهذيب باب الأنساب)

(3)
یہ واقعہ مقام روحہ پر پیش آیا۔ (سنن نسائی حوالہ مذکورہ بالا)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3092]

Sunan Ibn Majah Hadith 3092 in Urdu