🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ : التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الذَّبْحِ
باب: ذبح کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3173
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ سورة الأنعام آية 121، قَالَ:" كَانُوا يَقُولُونَ مَا ذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللَّهِ فَلَا تَأْكُلُوا، وَمَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ"، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ آیت کریمہ: «إن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» (سورة الأنعام: 121) کی تفسیر میں کہتے ہیں: ان کی وحی یہ تھی کہ جس (ذبیحہ) پر اللہ کا نام لیا جائے اس کو مت کھاؤ، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے کھاؤ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3173]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (انہوں نے یہ آیت پڑھی): ﴿إِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ﴾ [سورة الأنعام: 121] ”بے شک شیطان اپنے دوستوں کی طرف الہام کرتے ہیں۔“ (پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے) فرمایا: ”(مشرک) لوگ کہتے تھے: جس چیز پر اللہ کا نام لیا جائے وہ نہ کھاؤ، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے، وہ کھا لیا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے (ان کی تردید میں) یہ آیت نازل فرمادی، ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأنعام: 121] ”جس چیز پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اس میں سے (کچھ) نہ کھاؤ۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأضاحي 13 (2818)، (تحفة الأشراف: 6111)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الضحایا 40 (4448) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان سے گوشت لے لینا جائز ہے، اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں کیونکہ مسلمان کی ظاہری حالت امید دلاتی ہے کہ اس نے اللہ تعالی کا نام ضرور لیا ہو گا، البتہ مشرک سے گوشت لینا جائز نہیں جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے، اگر دیکھے نہیں لیکن مشرک یہ کہے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے تو اس کا لینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مردار ہے «منخنقہ» وغیرہ ورنہ ہرگز جائز نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2818)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
12316

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← عكرمة مولى ابن عباس
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة حافظ إمام
👤←👥عمرو بن عبد الله الأودى، أبو عثمان
Newعمرو بن عبد الله الأودى ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3173
وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم قال كانوا يقولون ما ذكر عليه اسم الله فلا تأكلوا وما لم يذكر اسم الله عليه فكلوه فقال الله ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3173 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3173
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ بھی دور جاہلیت کے غلط رواجوں میں سے ایک رواج تھا کہ غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ کھاتے تھے۔
اور اس جانور کا گوشت بھی کھا لیتے تھے جس پر اللہ کا نام جان بوجھ کر نہ لیا گیا ہو۔
اور اسے شرعی مسئلہ سمجھتے تھے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿وَأَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ﴾ (الأنعام: 138/2)
”اور کچھ جانوروں پر اللہ کا نام نہیں لیتے، اللہ کے ذمے جھوٹی بات لگاتے ہوئے۔

(2)
آیت مبارکہ کی شان نزول میں یہ بھی روایت ہے کہ مشرکین کہتے تھے:
مسلمان اپنا مارا ہوا (ذبح شدہ)
جانور تو کھا لیتے ہیں، اللہ کا ماراہوا (مردار)
جانور نہیں کھاتے تھے۔
اللہ تعالی نے اس کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی۔
اور مسلمانوں کو ان (مشرکین)
کے پیدا کردہ شبہات سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:
﴿وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ﴾ (الأنعام 121: 6)
”اگر تم ان کی بات مانوگے تو تم لوگ بھی مشرک ہوجاؤگے۔“
 (جامع الترمذي، التفسير، (باب)
ومن سورة الأنعام، حديث: 3-29)

(3)
ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔

(4)
مسلمان کے بارے میں ظاہری طور پر یقین ہوتا ہے کہ اس نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہے، مثلاً:
خود ذبح کرتے دیکھا ہو یا کسی قابل اعتماد مسلمان نے دیکھا ہو، تو اہل کتاب کے اس شخص کا ذبح کیا ہوا بھی درست ہے۔
دوسرے غیر مسلموں (ہندو، بدھ، پارسی وغیرہ)
کا ذبح کیا ہوا جائز نہیں۔

(5)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ بعض دیگر محققین نے اسے صحیح قراردیا ہے۔ دیکھیے: (صحيح سنن أبي داؤد، (مفصل)
للألباني، حديث: 2509)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3173]

Sunan Ibn Majah Hadith 3173 in Urdu