سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : الأرنب
باب: خرگوش کا بیان۔
حدیث نمبر: 3245
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ لِأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الْأَرْضِ، مَا تَقُولُ فِي الضَّبِّ؟، قَالَ:" لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ"، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي آكُلُ مِمَّا لَمْ تُحَرِّمْ، وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ، وَرَأَيْتُ خَلْقًا رَابَنِي"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الْأَرْنَبِ؟، قَالَ:" لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ"، قُلْتُ: فَإِنِّي آكُلُ مِمَّا لَمْ تُحَرِّمْ، وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" نُبِّئْتُ أَنَّهَا تَدْمَى".
خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا کہ آپ سے زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کروں، آپ ضب (گوہ) کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ تو میں اسے کھاتا ہوں، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں“ میں نے عرض کیا: میں تو صرف ان چیزوں کو کھاؤں گا جسے آپ نے حرام نہیں کیا ہے، اور آپ (ضب) کیوں نہیں کھاتے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوموں میں ایک گروہ گم ہو گیا تھا اور میں نے اس کی خلقت کچھ ایسی دیکھی کہ مجھے شک ہوا“ (یعنی شاید یہ ضب- گوہ- وہی گمشدہ گروہ ہو) میں نے عرض کیا: آپ خرگوش کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی حرام قرار دیتا ہوں“، میں نے عرض کیا: میں تو ان چیزوں میں سے کھاؤں گا جسے آپ حرام نہ کریں، اور آپ خرگوش کھانا کیوں نہیں پسند کرتے؟ اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے خبر دی گئی ہے کہ اسے حیض آتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3245]
حضرت خزیمہ بن جزء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کے چھوٹے (جنگلی) جانوروں کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سانڈے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے نہیں کھاتا اور اسے حرام بھی قرار نہیں دیتا۔“ میں نے کہا: ”جس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرام قرار نہیں دیتے، میں اسے کھا لوں گا۔ لیکن اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) کیوں (نہیں کھاتے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک قوم لاپتہ ہو گئی تھی اور مجھے ایسی (ظاہری) شکل و صورت نظر آئی جس سے مجھے شک ہوا (کہ شاید بنی اسرائیل کی مسخ شدہ قوم یہی ہو۔)“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم خرگوش کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے نہیں کھاتا اور اسے حرام بھی قرار نہیں دیتا۔“ میں نے کہا: ”جس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرام قرار نہیں دیتے، میں اسے کھا لوں گا۔ لیکن اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) کیوں (نہیں کھاتے؟)“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بتایا گیا ہے کہ اسے خون (حیض) آتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3245]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3533، ومصباح الزجاجة: 1114) (ضعیف)» (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور عبدالکریم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (3235)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (3235)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 493
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1792
| أو يأكل الذئب أحد فيه خير |
سنن ابن ماجه |
3235
| من يأكل الثعلب ما تقول في الذئب يأكل الذئب أحد فيه خير |
سنن ابن ماجه |
3237
| من يأكل الضبع |
سنن ابن ماجه |
3245
| لا آكله ولا أحرمه فقدت أمة من الأمم ما تقول في الأرنب قال لا آكله ولا أحرمه نبئت أنها تدمى |
Sunan Ibn Majah Hadith 3245 in Urdu
حبان بن جزء السلمي ← خزيمة بن جزء السلمي