🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب : الاقتصاد في الأكل وكراهية الشبع
باب: کھانے میں میانہ روی کا بیان اور بھر پیٹ کھانے کی کراہت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3351
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ , عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ , عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ وَأُكْرِهَ عَلَى طَعَامٍ يَأْكُلُهُ , فَقَالَ: حَسْبِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا , أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عطیہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو کھانا کھانے پر مجبور کیا گیا تو میں نے ان کو کہتے سنا: میرے لیے کافی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: دنیا میں سب سے زیادہ شکم سیر ہو کر کھانے والا قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا ہو گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3351]
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے ایک کھانا کھانے پر اصرار کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: (جتنا کھا لیا وہی) کافی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: دنیا میں زیادہ سیر ہونے والے لوگ قیامت کے دن زیادہ طویل عرصے تک بھوکے رہیں گے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4506، ومصباح الزجاجة: 1156) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں سعید بن محمد الوراق ضعیف ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 343)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
سعيد بن محمد الوراق: ضعيف
وفيه علة أخري
وللحديث شواھد منھا ما أخرجه صاحب الحلية (3/ 346) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 497

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمان الفارسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عطية بن عامر الجهني
Newعطية بن عامر الجهني ← سلمان الفارسي
ضعيف الحديث
👤←👥زيد بن وهب الجهني، أبو سليمان
Newزيد بن وهب الجهني ← عطية بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥موسى بن عبد الله الجهني، أبو عبد الله، أبو سلمة
Newموسى بن عبد الله الجهني ← زيد بن وهب الجهني
ثقة
👤←👥سعيد بن محمد الثقفي، أبو الحسن
Newسعيد بن محمد الثقفي ← موسى بن عبد الله الجهني
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← سعيد بن محمد الثقفي
صدوق حسن الحديث
👤←👥داود بن سليمان العسكري، أبو سهل
Newداود بن سليمان العسكري ← محمد بن الصباح الجرجرائي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3351
إن أكثر الناس شبعا في الدنيا أطولهم جوعا يوم القيامة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3351 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3351
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کم کھانے والا بھوک برداشت کر سکتا ہے قیامت کے دن بھی اسے بھوک برداشت کرنا آسان ہو گا۔

(2)
زیادہ کھانے کے شائق حلال و حرام میں امتیاز کرنے کی کوشش نہیں کرتے اس لیے صریح حرام سے بچ بھی جائیں تو مشکوک تو کھا ہی لیتے ہیں۔
اس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن سزا کے مستحق قرارپائیں گے۔

(3)
ڈکار لینا پیٹ بھر کر کھانے کی علامت ہے جو مستحسن نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3351]

Sunan Ibn Majah Hadith 3351 in Urdu