🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : لا تكرهوا المريض على الطعام
باب: مریض کو کھانے پر مجبور نہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3444
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ , فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مریضوں کو کھانے اور پینے پر مجبور نہ کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3444]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مریضوں کو کھانے پینے پر مجبور نہ کیا کرو، انہیں اللہ تعالیٰ کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 4 (2040)، (تحفة الأشراف: 9943، ومصباح الزجاجة: 1195) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں بکر بن یونس ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 727)
وضاحت: ۱؎: کھانے پینے کا مقصد یہی ہے کہ روح کا تعلق جسم سے باقی رہے، اور آدمی کو تسلی اور سکون حاصل ہو، چونکہ اللہ تعالیٰ سب کا محافظ اور سب کا رازق ہے، اس لیے وہ بیماروں کی دوسری طرح خبر گیری کرتا ہے کہ ان کو غذا کی ضرورت نہیں پڑتی، بس جب وہ اپنی خوشی سے کھانا چاہیں ان کو کھلاؤ زبردستی مت کرو، اور جو غذا زبردستی سے کھائی جائے، اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2040)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 500


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥علي بن رباح اللخمي، أبو موسى، أبو عبد الله
Newعلي بن رباح اللخمي ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥موسى بن علي اللخمي، أبو عبد الرحمن
Newموسى بن علي اللخمي ← علي بن رباح اللخمي
ثقة
👤←👥بكر بن يونس الشيباني
Newبكر بن يونس الشيباني ← موسى بن علي اللخمي
ضعيف الحديث
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← بكر بن يونس الشيباني
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
2040
لا تكرهوا مرضاكم على الطعام فإن الله يطعمهم ويسقيهم
سنن ابن ماجه
3444
لا تكرهوا مرضاكم على الطعام والشراب فإن الله يطعمهم ويسقيهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3444 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3444
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکور روایت کو ہمارے محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ امام ترمذی اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔
اورانہی کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔
واللہ اعلم۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔ (الصحیحة للألبانی رقم: 727)

(2)
مریض کے لئے صحت مند انسان والی غذا مفید نہیں ہوتی۔
اس لئے انھیں بھاری غذا نہ دی جائے۔

(3)
اگر مریض کی طبیعت کھانے پینے پر آمادہ نہ ہو تو سختی نہ کی جائے۔
کیونکہ زبردستی کھلائی ہوئی غذا فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔

(4)
مناسب ترغیب کے ذریعے سےہلکی پھلکی زود ہضم غذا دی جاسکتی ہے۔
تاکہ قوت قائم رہے۔

(5)
اللہ تعالیٰ مریض کو کھلاتا پلاتاہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں تندرست آدمی کی طرح کھانے پینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3444]

Sunan Ibn Majah Hadith 3444 in Urdu