سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ : الْحُمَّى
باب: بخار کا بیان۔
حدیث نمبر: 3470
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا , لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے ایک مریض کی عیادت کی، آپ کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری آگ ہے، میں اسے اپنے مومن بندے پر اس دنیا میں اس لیے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ آخرت کی آگ کا بدل بن جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3470]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جسے بخار تھا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مریض سے) فرمایا: ”خوش ہو جاؤ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بخار میری آگ ہے جسے دنیا میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت میں جہنم کے عذاب کے عوض اس کا حصہ اس (بخار) کو قرار دیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15439، ومصباح الزجاجة: 1209)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/440) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2088
| ناري أسلطها على عبدي المذنب لتكون حظه من النار |
سنن ابن ماجه |
3470
| ناري أسلطها على عبدي المؤمن في الدنيا لتكون حظه من النار في الآخرة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3470 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3470
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مریض کی عیادت کرنا مسلمان کا مسلمان پر حق ہے۔
(2)
عیادت کا مقصد بیمار کوتسلی دینا اوراس کے غم وفکر میں تخفیف کرنا ہے۔
(3)
بیماری کی وجہ سے مسلمان کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(4)
دنیا کی مصیبت پرصبرکرنے سے جہنم سے نجات ملتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مریض کی عیادت کرنا مسلمان کا مسلمان پر حق ہے۔
(2)
عیادت کا مقصد بیمار کوتسلی دینا اوراس کے غم وفکر میں تخفیف کرنا ہے۔
(3)
بیماری کی وجہ سے مسلمان کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(4)
دنیا کی مصیبت پرصبرکرنے سے جہنم سے نجات ملتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3470]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2088
مریض کی عیادت سے متعلق ایک اور باب۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی عیادت کی جسے تپ دق کا مرض تھا، آپ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ میری آگ ہے جسے میں اپنے گنہگار بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ یہ جہنم کی آگ میں سے اس کا حصہ بن جائے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2088]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی عیادت کی جسے تپ دق کا مرض تھا، آپ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: یہ میری آگ ہے جسے میں اپنے گنہگار بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ یہ جہنم کی آگ میں سے اس کا حصہ بن جائے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطب عن رسول اللَّهِ صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2088]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی وہ آخرت میں جہنم کی آگ سے محفوظ رہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کے وقت یوں بھی فرماتے تھے:
لَابَأْسَ طُهُورٌ إِنْ شَاءَ الله۔
وضاحت:
1؎:
یعنی وہ آخرت میں جہنم کی آگ سے محفوظ رہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کے وقت یوں بھی فرماتے تھے:
لَابَأْسَ طُهُورٌ إِنْ شَاءَ الله۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2088]
Sunan Ibn Majah Hadith 3470 in Urdu
أبو صالح الأشعري ← أبو هريرة الدوسي