🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. باب : قتل ذي الطفيتين
باب: دو دھاری سانپ کو قتل کر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3535
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ , وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ , وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ , وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو ضرور مارو، اس لیے کہ یہ دونوں آنکھ کی بینائی زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3535]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو قتل کرو، اور دو لکیروں والے سانپ کو اور دم کٹے سانپ کو قتل کر دو کیونکہ یہ بینائی ضائع کر دیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 14 (3297 تعلیقاً)، صحیح مسلم/السلام 37 (2233)، (تحفة الأشراف: 6985)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 174 (5252)، موطا امام مالک/الإستئذان 12 (37)، مسند احمد (3/430، 452، 453) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4017
نهى عن قتل جنان البيوت فأمسك عنها
جامع الترمذي
1483
اقتلوا الحيات واقتلوا ذا الطفيتين والأبتر فإنهما يلتمسان البصر ويسقطان الحبلى
سنن أبي داود
5252
اقتلوا الحيات وذا الطفيتين والأبتر فإنهما يلتمسان البصر ويسقطان الحبل
سنن ابن ماجه
3535
اقتلوا الحيات واقتلوا ذا الطفيتين والأبتر فإنهما يلتمسان البصر ويسقطان الحبل
المعجم الصغير للطبراني
497
نهى عن قتل الجنان التي تكون في البيت
المعجم الصغير للطبراني
497
لهذه البيوت عوامر من الجن ونهى عن قتل الجنان
مسندالحميدي
632
اقتلوا الحيات، وذا الطفيتين، والأبتر، فإنهما يلتمسان البصر، ويستسقطان الحبل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3535 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3535
اردو حاشہ:
فوائد  ومسائل:

(1)
لکیروں والے سانپ سے مراد ایک خاص قسم کا سانپ ہے جس کی پیٹھ پر دو لکیریں ہوتی ہیں۔

(2)
دم کٹے سانپ سے مراد وہ سانپ ہے جس کی دم دوسرے سانپوں کی طرح مخروطی نہیں ہوتی بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے۔
جیسے دم کاٹ دی گئی ہو۔

(3)
یہ سانپ زیادہ زہریلے ہوتے ہیں۔
ان کے کاٹنے سے آدمی کی بینائی ختم ہوسکتی ہے۔
اور عورت کا حمل ساقط ہوسکتا ہے۔

(4)
سانپ کی بہت سی قسمیں زہریلی نہیں ہوتیں انہیں مارنا ضروری نہیں۔

(5)
گھر میں سانپ نظر آئے تو اسے تنبیہ کرنی چاہیے۔
کہ چلا جا ورنہ ہم تجھے مار دیں گے۔ (صحیح مسلم، السلام، باب قتل الحیات وغیرھا، حدیث: 2236)
اگر وہ جن ہوگا توچلا جائےگا۔
ورنہ اسے ماردیا جائے۔

(6)
صحیح مسلم کی حدیث میں ہے۔ (حرجواعلیھا ثلاثا)
(حوالہ مذکورہ بالا)
اس کی تشریح دوطرح سے کی گئی ہے۔
ایک یہ کہ اسے تین بار تنبیہ کرو۔
اگر اس کے بعد بھی نظر آئے تو ماردو۔ (فتح الباری: 6/ 420)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3535]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1483
سانپ مارنے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو مارو، خاص طور سے اس سانپ کو مارو جس کی پیٹھ پہ دو (کالی) لکیریں ہوتی ہیں اور اس سانپ کو جس کی دم چھوٹی ہوتی ہے اس لیے کہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے ہیں اور حمل کو گرا دیتے ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1483]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی ان دونوں میں ایسا زہر ہوتا ہے کہ انہیں دیکھنے والا نابینا ہوجاتا ہے اور حاملہ کا حمل گر جاتا ہے۔

2؎:
یہ ممانعت اس لیے ہے کہ یہ جن وشیاطین بھی ہوسکتے ہیں،
انہیں مارنے سے پہلے وہاں سے غائب ہوجانے یا اپنی شکل تبدیل کرلینے کی تین بارآگاہی دے دینی چاہئے،
اگروہ وہاں سے غائب نہ ہو پائیں یا اپنی شکل نہ بدلیں تووہ ابوسعید خدری سے مروی حدیث کی روشنی میں انہیں مار سکتے ہیں۔

3؎:
زید بن خطاب عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہما) کے بڑے بھائی ہیں،
یہ عمر رضی اللہ عنہ سے پہلے اسلام لائے،
بدر اور دیگر غزوات میں شریک رہے،
ان سے صرف ایک حدیث گھروں میں ر ہنے والے سانپوں کو نہ مارنے سے متعلق آئی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1483]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4017
4017. حضرت ابولبابہ بدری ؓ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تو وہ (حضرت ابن عمر ؓ) ان (کو مارنے) سے رک گئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4017]
حدیث حاشیہ:
گھریلو سانپوں کی بعض قسمیں بے ضررہوتی ہیں۔
فرمان نبوی سے وہی سانپ مراد ہیں۔
ابو لبابہ بدری صحابی کا ذکر مقصود ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4017]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4017
4017. حضرت ابولبابہ بدری ؓ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں نکلنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تو وہ (حضرت ابن عمر ؓ) ان (کو مارنے) سے رک گئے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4017]
حدیث حاشیہ:

حضرت ابو البابہ بشیر بن عبدالمنذر بدری صحابی ہیں۔
یہ کسی وجہ سے بدر کی لڑائی میں براہ راست شریک نہیں ہو سکے تھے البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مال غنیمت اور اس کے اجرو ثواب میں شریک قراردیا تھا۔
(فتح الباري: 400/7)

عام طور پر سفیداور پتلے سانپ گھروں میں بر آمد ہوتے ہیں اور جن ان کی شکل و صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مارنے سے منع فرمایا:
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 5256)

بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تین دن تک انھیں وارننگ دی جائے اگر نہ جائیں تو انھیں مارنے کی اجازت ہے۔
واللہ اعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4017]

Sunan Ibn Majah Hadith 3535 in Urdu