🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. بَابُ : فَضْلِ الذِّكْرِ
باب: ذکر الٰہی کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3793
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ , أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ , أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَالَ: لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ , فَأَنْبِئْنِي مِنْهَا بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ , قَالَ:" لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اسلام کے اصول و قواعد مجھ پر بہت ہو گئے ہیں ۱؎، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئیے جس پر میں مضبوطی سے جم جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری زبان ہمیشہ ذکر الٰہی سے تر رہنی چاہیئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3793]
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”اسلام میں نیک اعمال بہت زیادہ ہیں (میں ان سب کو کماحقہ ادا نہیں کرسکتا۔) مجھے ایک بات بتا دیجئے جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 4 (3375)، (تحفة الأشراف: 5196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/188، 190) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اسلام میں نیک اعمال کے طریقے بہت زیادہ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

تخریج وتحقیقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ از محدثِ مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
الجامع الكامل حدیث نمبر :
10774

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن بسر النصري، أبو صفوان، أبو بسرصحابي
👤←👥عمرو بن قيس الكندي، أبو ثور
Newعمرو بن قيس الكندي ← عبد الله بن بسر النصري
ثقة
👤←👥معاوية بن صالح الحضرمي، أبو حمزة، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newمعاوية بن صالح الحضرمي ← عمرو بن قيس الكندي
صدوق له أوهام
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← معاوية بن صالح الحضرمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3375
لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله
سنن ابن ماجه
3793
لا يزال لسانك رطبا من ذكر الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3793 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3793
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
شرائع سےمراد اللہ کے مقرر کردہ احکام جن میں فرض بھی ہیں، نوافل بھی ہیں اور مستحبات بھی۔

(2)
فرائض کی ادائیگی ہرحال میں ضروری ہے لیکن مستحبات کی بھی اپنی اہمیت ہے اور نوافل بھی قرب الہیٰ کا ذریعہ ہیں۔
بعض لوگ ان اعمال کی کثرت دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں، جیسے اس صحابی نے خواہش ظاہر کی کہ آسان سی نیکی سے کافی ثواب حاصل ہو جائے۔

(3)
اللہ کے ذکر کو معمول بنالینے سے نفلی عبادات کی کمی کا ازالہ ہو جا تا ہے۔

(4)
کثرت سے ذکر کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف اوقات کےلیے جواذکا ر بتائے گئےہیں، ان پر پابند ی کی جائے، مثلاً:
صبح و شام کے اذکار، کھانے پینے کے اذکار وغیرہ اور یہ مطلب بھی ہے کہ عام اذکار کثرت سے کیے جائیں، مثلاً:
(سبحان الله، الحمد الله، الله اكبر، لا إله إلا الله، لاحول ولاقوة إلا بالله)
وغیرہ۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3793]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3375
ذکر الٰہی کی فضیلت کا بیان۔
عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اسلام کے احکام و قوانین تو میرے لیے بہت ہیں، کچھ تھوڑی سی چیزیں مجھے بتا دیجئیے جن پر میں (مضبوطی) سے جما رہوں، آپ نے فرمایا: ”تمہاری زبان ہر وقت اللہ کی یاد اور ذکر سے تر رہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3375]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس آدمی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ فرائض،
سنن اور نوافل کی شکل میں نیکیوں کی بہت کثرت ہے،
مجھے کوئی ایسا جامع نسخہ بتائیے جس سے صرف فرائض و سنن پر اگر عمل کر سکوں اور نوافل و مستحبات رہ جائیں تو بھی میری نیکیاں کم نہ ہوں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
 ”ذکر الٰہی سے اپنی زبان تر رکھ اور اسے اپنی زندگی کا دائمی معمول بنا لے،
ایسا کرنے کی صورت میں اگر تو نوافل و مستحبات پر عمل نہ بھی کر سکا تو ذکر الٰہی کی کثرت سے اس کا ازالہ ہو جائے گا۔
کیونکہ نوافل ومستحبات (عبادات) کاحاصل تو یہی ہے کہ بندہ بارگاہ الٰہی میں اپنی عاجزی وخاکساری کا اظہارکا نذرانہ پیش کرتا ہے،
سو کثرت ذکرسے بھی یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3375]

Sunan Ibn Majah Hadith 3793 in Urdu