سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : الكف عمن قال لا إله إلا الله
باب: کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے سے ہاتھ روک لینا۔
حدیث نمبر: 3929
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ , عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ , أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَاهُ أَوْسًا أَخْبَرَهُ , قَالَ: إِنَّا لَقُعُودٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ يَقُصُّ عَلَيْنَا وَيُذَكِّرُنَا , إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَسَارَّهُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبُوا بِهِ فَاقْتُلُوهُ" , فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ , دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" هَلْ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" اذْهَبُوا فَخَلُّوا سَبِيلَهُ , فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ , حَرُمَ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ".
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ حکایات و واقعات سنا کر ہمیں نصیحت فرما رہے تھے، کہ اتنے میں ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے آپ کے کان میں کچھ باتیں کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جا کر قتل کر دو“، جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر واپس بلایا، اور پوچھا: ”کیا تم «لا إله إلا الله» کہتے ہو“؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جاؤ اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجھے لوگوں سے لڑائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کہیں، جب انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا تو اب ان کا خون اور مال مجھ پر حرام ہو گیا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3929]
حضرت اوس بن ابو اوس حذیفہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور آپ ہمیں وعظ و نصیحت فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چپکے چپکے بات کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جاؤ اور قتل کر دو۔“ جب وہ آدمی اٹھ کر چلا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے آزاد کر دو۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں حتیٰ کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کر لیں۔ جب وہ ایسا کریں تو ان کی جانیں اور مال مجھ پر حرام ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3929]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/تحریم 1 (3987)، (تحفة الأشراف: 1738، ومصباح الزجاجة: 1373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8)، سنن الدارمی/السیر 10 (2490) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3929
| أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا فعلوا ذلك حرم علي دماؤهم وأموالهم |
سنن النسائى الصغرى |
3987
| أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله فإذا قالوها حرمت دماؤهم وأموالهم إلا بحقها |
سنن النسائى الصغرى |
3988
| أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله ثم تحرم دماؤهم وأموالهم إلا بحقها |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3929 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3929
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی کرنے والے کی بات سے یہ سمجھا کہ یہ شخص دل سے مسلمان نہیں بعد میں اس کے ظاہری اسلام پر اعتماد کرتے ہوئے اسے چھوڑدیا۔
امام سیوطی ؒ اس کی بابت لکھتے ہیں:
زیادہ صحیح تشریح یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت تھی کہ کسی سے اس کی دلی کیفیات کے مطابق سلوک کریں، چنانچہ اس کے مطابق عمل کرنے کا ارادہ فرمایا (کفر کی بنا پر قتل کرنا چاہا)
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہتر محسوس ہوئی کہ ظاہر پرعمل کیاجائے (اس کے ظاہری اسلام کی وجہ سے مسلمانوں والا سلوک کیاجائے)
کیونکہ یہ قانون نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور امت سب کے لیے ہے اس لیے آپ اس طرف مائل ہوگئے اور باطن (کی حقیقی کیفیت)
کے مطابق عمل سےاجتناب فرمایا۔ (شرح سنن نسائي كتاب تحريم الدم)
(2)
سنن نسائی کے اس باب میں حضرت اوس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی مروی ہے۔
حضرت اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں قبیلہ ثقیف کے وفد میں شامل ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔
میں خیمے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔
میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا خیمے کے سب افراد سوگئے۔ (اس تنہائی کے وقت)
ایک آدمی نے آ کر چپکے سے بات کی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا اسے قتل کردے۔
پھر فرمایا:
کیا وہ لَاإِلٰهَ إِلَّاالله کی اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا:
گواہی دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسے چھوڑدے۔
پھر آپ نے فرمایا:
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں حتی کہ وہ لَاإِلٰهَ إِلَّاالله کہیں۔
جب وہ اس کا اقرار کر لیں توا ن کے خون اور ان کے مال (مسلمانوں پر)
حرام ہوگئے مگر اس حق کے ساتھ۔ (سنن نسائي، المحاربة، باب تحريم الدم، حديث: 3987)
فوائد و مسائل:
(1)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی کرنے والے کی بات سے یہ سمجھا کہ یہ شخص دل سے مسلمان نہیں بعد میں اس کے ظاہری اسلام پر اعتماد کرتے ہوئے اسے چھوڑدیا۔
امام سیوطی ؒ اس کی بابت لکھتے ہیں:
زیادہ صحیح تشریح یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت تھی کہ کسی سے اس کی دلی کیفیات کے مطابق سلوک کریں، چنانچہ اس کے مطابق عمل کرنے کا ارادہ فرمایا (کفر کی بنا پر قتل کرنا چاہا)
پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بہتر محسوس ہوئی کہ ظاہر پرعمل کیاجائے (اس کے ظاہری اسلام کی وجہ سے مسلمانوں والا سلوک کیاجائے)
کیونکہ یہ قانون نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور امت سب کے لیے ہے اس لیے آپ اس طرف مائل ہوگئے اور باطن (کی حقیقی کیفیت)
کے مطابق عمل سےاجتناب فرمایا۔ (شرح سنن نسائي كتاب تحريم الدم)
(2)
سنن نسائی کے اس باب میں حضرت اوس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کا ایک اور واقعہ بھی مروی ہے۔
حضرت اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں قبیلہ ثقیف کے وفد میں شامل ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔
میں خیمے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔
میرے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا خیمے کے سب افراد سوگئے۔ (اس تنہائی کے وقت)
ایک آدمی نے آ کر چپکے سے بات کی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا اسے قتل کردے۔
پھر فرمایا:
کیا وہ لَاإِلٰهَ إِلَّاالله کی اور میری رسالت کی گواہی نہیں دیتا؟ اس نے کہا:
گواہی دیتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسے چھوڑدے۔
پھر آپ نے فرمایا:
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں حتی کہ وہ لَاإِلٰهَ إِلَّاالله کہیں۔
جب وہ اس کا اقرار کر لیں توا ن کے خون اور ان کے مال (مسلمانوں پر)
حرام ہوگئے مگر اس حق کے ساتھ۔ (سنن نسائي، المحاربة، باب تحريم الدم، حديث: 3987)
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3929]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3988
خون کی حرمت کا بیان۔
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں (جب وہ اس کی گواہی دے دیں گے تو) پھر ان کے خون اور ان کے مال حرام ہو جائیں گے مگر اس کے (جان و مال کے) حق کے بدلے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3988]
اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں (جب وہ اس کی گواہی دے دیں گے تو) پھر ان کے خون اور ان کے مال حرام ہو جائیں گے مگر اس کے (جان و مال کے) حق کے بدلے۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3988]
اردو حاشہ:
”قابل احترام ہو جاتے ہیں“ نہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے نہ زخمی، نہ ان کی بے عزتی کی جا سکتی ہے اور نہ ان کا مال ان کی مرضی کے بغیر لیا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر ان کے ذمے کسی کا حق بنتا ہو تو وہ انہیں ادا کرنا ہو گا، مثلاً: انہوں نے کسی کو قتل یا زخمی کیا ہو تو انہیں قصاص یا دیت دینی پڑے گی۔ اسی طرح ان کے ذمے کسی کا مالی حق واجب الادا ہے تو وہ حکومت زبردستی بھی دلائے گی۔
”قابل احترام ہو جاتے ہیں“ نہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے نہ زخمی، نہ ان کی بے عزتی کی جا سکتی ہے اور نہ ان کا مال ان کی مرضی کے بغیر لیا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر ان کے ذمے کسی کا حق بنتا ہو تو وہ انہیں ادا کرنا ہو گا، مثلاً: انہوں نے کسی کو قتل یا زخمی کیا ہو تو انہیں قصاص یا دیت دینی پڑے گی۔ اسی طرح ان کے ذمے کسی کا مالی حق واجب الادا ہے تو وہ حکومت زبردستی بھی دلائے گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3988]
Sunan Ibn Majah Hadith 3929 in Urdu
عمرو بن أوس الطائي ← أوس بن أبي أوس الثقفي