سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ : الْعَصَبِيَّةِ
باب: عصبیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3949
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ الْيُحْمِدِيُّ , عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ الشَّامِيِّ , عَنْ امْرَأَة مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: فُسَيْلَةُ , قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي , يَقُولُ , سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ قَوْمَهُ , قَالَ:" لَا , وَلَكِنْ مِنَ الْعَصَبِيَّةِ أَنْ يُعِينَ الرَّجُلُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ".
فسیلہ نامی ایک عورت کہتی ہے کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اپنی قوم سے محبت رکھنا عصبیت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ظلم پر قوم کی مدد کرنا عصبیت ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3949]
حضرت فسیلہ رضی اللہ عنہا اپنے والد (واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ بھی عصبیت ہے کہ آدمی اپنی قوم سے محبت رکھے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، عصبیت تو یہ ہے کہ آدمی ظلم میں اپنی قوم کی مدد کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11757، ومصباح الزجاجة: 1386)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 121 (5119) مختصراً (ضعیف)» (سند میں عباد بن کثیر اور فسیلہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
عباد بن كثير: متروك
وللحديث طريق ضعيف عند أبي داود (5119)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
ضعيف
عباد بن كثير: متروك
وللحديث طريق ضعيف عند أبي داود (5119)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5119
| العصبية قال أن تعين قومك على الظلم |
سنن ابن ماجه |
3949
| العصبية أن يعين الرجل قومه على الظلم |
Sunan Ibn Majah Hadith 3949 in Urdu
جميلة بنت واثلة الليثية ← واثلة بن الأسقع الليثي