🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب : افتراق الأمم
باب: امتوں کا انتشار اور ان کا فرقوں میں بٹ جانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3993
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقَتْ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً , كُلُّهَا فِي النَّارِ , إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سوائے ایک کے سب جہنمی ہوں گے، اور وہ «الجماعة» ہے، (وہ جماعت جو میری اور میرے صحابہ کی روش اور طریقے پر ہو) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3993]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر (71) فرقوں میں تقسیم ہوئے اور میری امت بہتر (72) فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ایک کے سوا وہ سب فرقے جہنم میں جائیں گے، اور وہ جماعت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1314، ومصباح الزجاجة: 1404)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/120) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جس نے مسلمانوں کی جماعت اور امام وقت کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہر زمانہ میں امام اور خلیفہ وقت کے ساتھ رہے،یہ مضمون اہل سنت والجماعت کے علاوہ کسی اور فرقہ اور جماعت پر صادق نہیں آتا، اس لیے معلوم ہوا کہ اہل سنت والجماعت ہی ناجی جماعت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← الوليد بن مسلم القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3993
بني إسرائيل افترقت على إحدى وسبعين فرقة أمتي ستفترق على ثنتين وسبعين فرقة كلها في النار إلا واحدة وهي الجماعة
المعجم الصغير للطبراني
785
تفترق هذه الأمة على ثلاث وسبعين فرقة كلهم في النار إلا واحدة ما هي تلك الفرقة قال ما أنا عليه اليوم وأصحابي
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3993 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3993
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مستقبل میں آنے والے جن جن واقعات کی جس جس طرح خبردی۔
وہ اسی طرح پیش آئے۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور صداقت کی دلیل ہے۔

(2)
فرقوں میں تقسیم ہونے کے بارے میں اس لیے بتایا گیا ہے کہ مسلمان ان اختلافات میں صحیح طرز عمل اختیار کرنے کی کوشش کریں۔

(3)
نصاریٰ اور مسلمانوں میں اختلاف کی اصل وجہ خواہشات نفس کی پیروی اور تعصب ہے۔
اور یہ جرائم جہنم میں لے جانے والے ہیں۔

(4)
مسلمانوں کی اصل جماعت وہ ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے طریقے پر چلی آرہی ہے۔
اس جماعت سے لوگ مختلف فرقوں کی شکل اختیار کرگئے لیکن اصل جماعت بھی قائم ہے۔
مسلمانوں کو اسی جماعت کے ساتھ رہنے کی پیروی کرنے کا حکم ہے۔

(5)
جماعت سے الگ ہونے والے خواہش نفس یا غلط تاویلات کی وجہ سے الگ ہوئے۔
جو لوگ ان فرقوں میں شامل نہیں ہوئے وہ قرآن و حدیث پر قائم رہے۔
یہی سیدھا راستہ ہے۔

(6)
نجات کا دارومدار اپنی پارٹی کا کوئی خاص نام رکھ لینے پر نہیں بلکہ قرآن وسنت پر عمل کرنے پر ہے۔
عاملین کتاب وسنت مختلف زبانوں اور علاقوں میں مختلف ناموں سے مشہور ہوجائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ الگ الگ فرقے بن گئے ہیں بلکہ وہ سب تنظیمیں یا جماعتیں الجماعۃ میں شامل ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3993]

Sunan Ibn Majah Hadith 3993 in Urdu