🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ : الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ
باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4010
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: لَمَّا رَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهَاجِرَةُ الْبَحْرِ , قَالَ:" أَلَا تُحَدِّثُونِي بِأَعَاجِيبِ مَا رَأَيْتُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ" , قَالَ فِتْيَةٌ مِنْهُمْ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَرَّتْ بِنَا عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِ رَهَابِينِهِمْ , تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا قُلَّةً مِنْ مَاءٍ , فَمَرَّتْ بِفَتًى مِنْهُمْ , فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْهَا , ثُمَّ دَفَعَهَا , فَخَرَّتْ عَلَى رُكْبَتَيْهَا , فَانْكَسَرَتْ قُلَّتُهَا , فَلَمَّا ارْتَفَعَتْ , الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ , فَقَالَتْ: سَوْفَ تَعْلَمُ , يَا غُدَرُ إِذَا وَضَعَ اللَّهُ الْكُرْسِيَّ , وَجَمَعَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ , وَتَكَلَّمَتِ الْأَيْدِي وَالْأَرْجُلُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ , فَسَوْفَ تَعْلَمُ كَيْفَ أَمْرِي وَأَمْرُكَ , عِنْدَهُ غَدًا , قَالَ: يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَتْ صَدَقَتْ , كَيْفَ يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهِمْ مِنْ شَدِيدِهِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سمندر کے مہاجرین (یعنی مہاجرین حبشہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ مجھ سے وہ عجیب باتیں کیوں نہیں بیان کرتے جو تم نے ملک حبشہ میں دیکھی ہیں؟، ان میں سے ایک نوجوان نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! اسی دوران کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، ان راہباؤں میں سے ایک بوڑھی راہبہ ہمارے سامنے سر پر پانی کا مٹکا لیے ہوئے ایک حبشی نوجوان کے قریب سے ہو کر گزری، تو اس حبشی نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس بڑھیا کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ کر اس کو دھکا دیا جس کے باعث وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑی، اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، جب وہ اٹھی تو اس حبشی نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی: غدار! (دھوکا باز) عنقریب تجھے پتہ چل جائے گا جب اللہ تعالیٰ کرسی رکھے ہو گا، اور اگلے پچھلے سارے لوگوں کو جمع کرے گا، اور ہاتھ پاؤں ہر اس کام کی گواہی دیں گے جو انہوں نے کیے ہیں، تو کل اس کے پاس تجھے اپنا اور میرا فیصلہ معلوم ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ واقعہ سنتے جاتے اور فرماتے جاتے: اس بڑھیا نے سچ کہا، اس بڑھیا نے سچ کہا، اللہ تعالیٰ اس امت کو گناہوں سے کیسے پاک فرمائے گا، جس میں کمزور کا بدلہ طاقتور سے نہ لیا جا سکے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4010]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سمندر کا سفر طے کرنے والے مہاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ مجھے وہ عجیب باتیں نہیں بتاؤ گے جو تم نے حبشہ کے ملک میں دیکھیں؟ ان میں سے کچھ نوجوان افراد نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! (ہم سنائیں گے) ایک بار ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے پاس سے ان کی ایک راہب بڑھیا گزری جس نے سر پر پانی کا مٹکا اٹھایا ہوا تھا۔ وہ ان میں سے ایک جوان (لڑکے) کے پاس سے گزری تو اس نے اس (راہبہ) کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر اسے دھکا دے دیا۔ وہ گھٹنوں کے بل گری، اس کا مٹکا ٹوٹ گیا۔ جب وہ اٹھی تو اس (شریر لڑکے) کی طرف مڑ کر بولی: اے دھوکے باز! تجھے تب پتہ چلے گا جب اللہ تعالیٰ (حشر کے میدان میں) کرسی رکھے گا اور تمام پہلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا اور (انسانوں کے) ہاتھ اور پاؤں ان کے عملوں کی گواہی دیں گے۔ پھر تجھے پتہ چلے گا کہ کل (قیامت کو) اس (اللہ) کے پاس میرا تیرا معاملہ کیسے طے ہوتا ہے؟ راوی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ واقعہ سن کر) فرمایا: اس نے سچ کہا، اس نے سچ کہا۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیونکر پاک کرے گا جن میں طاقت ور سے کمزور کو حق نہیں دلوایا جاتا؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2779، ومصباح الزجاجة: 1410) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند کو بوصیری نے حسن کہا ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الزبير عنعن
و للحديث شاھد ضعيف عند البيھقي (6/ 95) فيه عطاء بن السائب اختلط و في السندين إليه نظر أيضًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥عبد الله بن عثمان القاري، أبو عثمان
Newعبد الله بن عثمان القاري ← محمد بن مسلم القرشي
مقبول
👤←👥يحيى بن سليم الطائفي، أبو محمد، أبو زكريا
Newيحيى بن سليم الطائفي ← عبد الله بن عثمان القاري
صدوق سيئ الحفظ
👤←👥سويد بن سعيد الهروي، أبو محمد
Newسويد بن سعيد الهروي ← يحيى بن سليم الطائفي
صدوق يخطئ كثيرا
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
4010
كيف يقدس الله أمة لا يؤخذ لضعيفهم من شديدهم
بلوغ المرام
1195
كيف تقدس أمة لا يؤخذ من شديدهم لضعيفهم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4010 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4010
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مکہ کے مظلوم مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔
پہلے گروپ نے رجب 5 نبوت میں ہجرت کی اس کے بعد اگلے سال زیادہ افراد نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔
ہجرت مدینہ کے بعد یہ حضرات مختلف اوقات میں گروہوں کی شکل میں مدینہ پہنچ گئے۔

(2)
سمندر کے مہاجرین سے مراد حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے لوگ ہیں کیونکہ یہ حضرات بحر قلزم (بحر احمر)
پار کرکے حبشہ پہنچے تھے۔

(3)
سابقہ آسمانی کتابوں میں بھی قیامت اور جنت جہنم کا ذکر موجود تھا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اگرچہ ان کتا بوں میں تحریف ہوچکی تھی۔
تاہم ان میں بہت سی صحیح باتیں موجود تھیں۔
موجودہ بائبل میں یہ تحریف بہت زیادہ ہےاور صحیح چیزیں شاذ ونادر ہیں۔

(4)
غیر مسلم صحیح بات کرے تو اس کی بھی تصدیق کرنی چاہیے۔

(5)
جس قوم میں کمزوروں پر ظلم کیاجائے۔
وہ اللہ کی طرف سے سزا کی مستحق ہوجاتی ہے۔

(6)
اللہ کے عذاب سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں عدل وانصاف قائم رہے اور مظلوم کی مدد کرتے ہوئے ظالم کو پوری سزا دی جائے۔

(7)
موجودہ غیر مسلم معاشرے میں قانون اس قسم کے ہیں جن سے ظالم کو تحفظ ملتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں بھی انھی ظالمانہ قوانین کو رائج کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے ظلم پھیلتا ہے اور مظلوم تباہ ہوتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4010]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1195
(قضاء کے متعلق احادیث)
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ امت کیسے پاک ہو سکتی ہے جس میں طاقتور سے کمزور کا حق نہ دلوایا جا سکے۔ اسے ابن حبان نے روایت کیا ہے اور بزار کے ہاں بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کی شاہد ہے اور اس کا ایک اور شاہد ابن ماجہ میں سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1195»
تخریج:
«أخرجه ابن حبان (الموارد)، حديث:1554، 2584، وابن ماجه، الفتن، حديث:4010 بطوله، وحديث بريدة: أخرجه البزار، كشف الأستار:1 /235، 236، حديث:1596 وهو حديث حسن، وحديث أبي سعيد الخدري: أخرجه ابن ماجه، الفتن، حديث:4011، وهو حديث حسن.»
تشریح:
سبل السلام میں ہے کہ اس سے مراد ہے کہ وہ امت جو طاقت ور سے کمزور کو انصاف نہیں دلواتی اور اس کا جو حق بنتا ہے وہ لے کر نہیں دیتی تو وہ گناہوں سے کیسے پاک ہو گی‘ لہٰذا کمزور کی مدد کرنا واجب ہے یہاں تک کہ وہ طاقت ور سے اپنا حق لے لے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1195]

Sunan Ibn Majah Hadith 4010 in Urdu