سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب : قوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم}
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مومنوں اپنی جانیں بچاؤ“۔
حدیث نمبر: 4015
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ , حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ الرُّعَيْنِيُّ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَتَى نَتْرُكُ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ:" إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ" , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا ظَهَرَ فِي الْأُمَمِ قَبْلَنَا , قَالَ:" الْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ , وَالْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ , وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ" , قَالَ زَيْدٌ: تَفْسِيرُ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ": إِذَا كَانَ الْعِلْمُ فِي الْفُسَّاقِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کس وقت ترک کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہو جائیں جو گذشتہ امتوں میں ظاہر ہوئی تھیں“، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے گذشتہ امتوں میں کون سی باتیں ظاہر ہوئی تھیں؟، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حکومت تمہارے کم عمروں میں چلی جائے گی، اور تمہارے بڑے آدمیوں میں فحش کاری آ جائے گی، اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں چلا جائے“۔ زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول: «والعلم في رذالتكم» کا مطلب یہ ہے کہ علم (دین) فاسقوں میں چلا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4015]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم (مسلمان) کب نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چھوڑ بیٹھیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے اندر وہ (خرابیاں) ظاہر ہو جائیں جو تم سے پہلی قوموں میں ظاہر ہوئی تھیں۔“ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سے پہلی امتوں میں کیا ظاہر ہوا تھا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حکومت کم عمر (یا بچگانہ ذہن رکھنے والے) افراد میں اور بے حیائی بڑوں میں (جوان تو بدکاری میں ملوث ہوں گے ہی، بوڑھے بھی باز نہیں آئیں گے) اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں۔“ حضرت زید بن یحییٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تمہارے ذلیل لوگوں میں علم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ علم فاسق (اور بدکردار) لوگوں میں ہوگا (جو علم پر عمل نہیں کریں گے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1604، ومصباح الزجاجة: 1412)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/187) (ضعیف)» (سند ضعیف ہے اس لئے کہ مکحول مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد لعنعنة مكحول
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4015
| إذا ظهر فيكم ما ظهر في الأمم قبلكم قلنا وما ظهر في الأمم قبلنا قال الملك في صغاركم والفاحشة في كباركم والعلم في رذالتكم قال زيد تفسير معنى قول النبي والعلم في رذالتكم إذا كان العلم في الفساق |
Sunan Ibn Majah Hadith 4015 in Urdu
مكحول بن أبي مسلم الشامي ← أنس بن مالك الأنصاري