یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. باب : خروج المهدي
باب: مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ أَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ , فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ , قَالَ: فَقُلْتُ: مَا نَزَالُ نَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهُ , فَقَالَ:" إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ , اخْتَارَ اللَّهُ لَنَا الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا , وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي سَيَلْقَوْنَ بَعْدِي بَلَاءً وَتَشْرِيدًا وَتَطْرِيدًا , حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُودٌ , فَيَسْأَلُونَ الْخَيْرَ فَلَا يُعْطَوْنَهُ , فَيُقَاتِلُونَ فَيُنْصَرُونَ , فَيُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا , فَلَا يَقْبَلُونَهُ حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا كَمَا مَلَئُوهَا جَوْرًا , فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَأْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں، اور آپ کا رنگ بدل گیا، میں نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے (یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیت مصیبت، سختی، اخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے، وہ خیر (خزانہ) طلب کریں گے، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے، اور (اللہ کی طرف سے) ان کی مدد ہو گی، پھر وہ جو مانگتے تھے وہ انہیں دیا جائے گا، (یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہو جائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے)، یہ لوگ اس وقت اپنے لیے حکومت قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر دیا تھا، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ (لشکر میں) شریک ہو، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4082]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنو ہاشم کے کچھ جوان آگئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور (چہرہ مبارک کا) رنگ تبدیل ہو گیا، میں نے عرض کیا: ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر کچھ ایسے آثار نظر آئے ہیں جو ہمیں پسند نہیں (ہم نہیں چاہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین دیکھیں۔) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اس گھرانے کے افراد ہیں (جن کی یہ شان ہے) اللہ نے ہمارے لیے دنیا کی بجائے آخرت کو پسند فرما لیا ہے، میرے گھر والوں کو میرے بعد مصیبتوں، دربدری اور وطن سے اخراج کا سامنا کرنا پڑے گا حتیٰ کہ مشرق سے کچھ لوگ آئیں گے ان کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے، اور وہ اچھی چیز مانگیں گے تو انہیں نہیں دی جائے گی، پھر وہ جنگ کریں گے تو ان کی مدد کی جائے گی (اور فتح حاصل ہو گی)، تب جو کچھ انہوں نے مانگا تھا انہیں پیش کیا جائے گا لیکن وہ قبول نہیں کریں گے حتیٰ کہ وہ اس (حکومتی انتظام) کو میرے اہل بیت کے ایک آدمی کو دیں گے، چنانچہ وہ زمین کو انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر رکھا تھا، تم میں سے جو ان حالات کو پالے، اسے چاہیے کہ اس (مہدی) کے پاس آئے اگرچہ برف پر پھسل کر آنا پڑے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9462، ومصباح الزجاجة: 1441) (ضعیف)» (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد بن أبي زياد:ضعيف
ولم تثبت متابعة الحكم له،في السند إليه عبد اللّٰه بن داهر: رافضي خبيث متهم (انظر ميزان الإعتدال 416/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
إسناده ضعيف
يزيد بن أبي زياد:ضعيف
ولم تثبت متابعة الحكم له،في السند إليه عبد اللّٰه بن داهر: رافضي خبيث متهم (انظر ميزان الإعتدال 416/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
الرواة الحديث:
Sunan Ibn Majah Hadith 4082 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود