سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ: خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ
باب: مہدی علیہ السلام کے ظہور کا بیان۔
حدیث نمبر: 4082
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ أَقْبَلَ فِتْيَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ , فَلَمَّا رَآهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ وَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ , قَالَ: فَقُلْتُ: مَا نَزَالُ نَرَى فِي وَجْهِكَ شَيْئًا نَكْرَهُهُ , فَقَالَ:" إِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ , اخْتَارَ اللَّهُ لَنَا الْآخِرَةَ عَلَى الدُّنْيَا , وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي سَيَلْقَوْنَ بَعْدِي بَلَاءً وَتَشْرِيدًا وَتَطْرِيدًا , حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مَعَهُمْ رَايَاتٌ سُودٌ , فَيَسْأَلُونَ الْخَيْرَ فَلَا يُعْطَوْنَهُ , فَيُقَاتِلُونَ فَيُنْصَرُونَ , فَيُعْطَوْنَ مَا سَأَلُوا , فَلَا يَقْبَلُونَهُ حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَيَمْلَؤُهَا قِسْطًا كَمَا مَلَئُوهَا جَوْرًا , فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلْيَأْتِهِمْ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں، اور آپ کا رنگ بدل گیا، میں نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے (یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیت مصیبت، سختی، اخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے، وہ خیر (خزانہ) طلب کریں گے، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے، اور (اللہ کی طرف سے) ان کی مدد ہو گی، پھر وہ جو مانگتے تھے وہ انہیں دیا جائے گا، (یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہو جائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے)، یہ لوگ اس وقت اپنے لیے حکومت قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر دیا تھا، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ (لشکر میں) شریک ہو، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4082]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ بنو ہاشم کے کچھ جوان آگئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور (چہرہ مبارک کا) رنگ تبدیل ہو گیا، میں نے عرض کیا: ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر کچھ ایسے آثار نظر آئے ہیں جو ہمیں پسند نہیں (ہم نہیں چاہتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین دیکھیں۔) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اس گھرانے کے افراد ہیں (جن کی یہ شان ہے) اللہ نے ہمارے لیے دنیا کی بجائے آخرت کو پسند فرما لیا ہے، میرے گھر والوں کو میرے بعد مصیبتوں، دربدری اور وطن سے اخراج کا سامنا کرنا پڑے گا حتیٰ کہ مشرق سے کچھ لوگ آئیں گے ان کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے، اور وہ اچھی چیز مانگیں گے تو انہیں نہیں دی جائے گی، پھر وہ جنگ کریں گے تو ان کی مدد کی جائے گی (اور فتح حاصل ہو گی)، تب جو کچھ انہوں نے مانگا تھا انہیں پیش کیا جائے گا لیکن وہ قبول نہیں کریں گے حتیٰ کہ وہ اس (حکومتی انتظام) کو میرے اہل بیت کے ایک آدمی کو دیں گے، چنانچہ وہ زمین کو انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اسے ظلم سے بھر رکھا تھا، تم میں سے جو ان حالات کو پالے، اسے چاہیے کہ اس (مہدی) کے پاس آئے اگرچہ برف پر پھسل کر آنا پڑے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9462، ومصباح الزجاجة: 1441) (ضعیف)» (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد بن أبي زياد:ضعيف
ولم تثبت متابعة الحكم له،في السند إليه عبد اللّٰه بن داهر: رافضي خبيث متهم (انظر ميزان الإعتدال 416/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
إسناده ضعيف
يزيد بن أبي زياد:ضعيف
ولم تثبت متابعة الحكم له،في السند إليه عبد اللّٰه بن داهر: رافضي خبيث متهم (انظر ميزان الإعتدال 416/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
حدیث نمبر: 4083
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ , حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ , إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ , فَتَنْعَمُ فِيهِ أُمَّتِي نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ , تُؤْتَى أُكُلَهَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا , وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدُوسٌ , فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي , فَيَقُولُ: خُذْ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے، ورنہ نو برس رہیں گے، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہو گی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیں، وہ جواب دیں گے: لے لو (اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے)“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4083]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں مہدی ہوگا۔ اگر (اس کی مدت) کم ہوئی تو سات سال ہوگی ورنہ نو سال۔ اس (کے دور حکومت) میں میری امت کو ایسی خوشیاں ملیں گی جیسی کبھی نہیں ملی تھیں۔ (زمین کو) اس کے میوے ملیں گے اور وہ ان (میووں) میں سے کچھ بھی بچا کر نہیں رکھے گی (پوری پیداوار دے گی)۔ ان دنوں مال کے انبار ہوں گے۔ آدمی اٹھ کر کہے گا: اے مہدی! مجھے دیجئے اور مہدی کہے گا: لے لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 53 (2232)، (تحفة الأشراف: 3976)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المھدي 1 (4285)، مسند احمد (3/21، 26) (حسن) (سند میں زید ا لعمی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)»
وضاحت: ۱؎: مہدی کے معنی لغت میں ہدایت پایا ہوا کے ہیں، اور اسی سے ہیں مہدی آخرالزمان، زرکشی کہتے ہیں کہ یہ وہ مہدی ہیں، جو عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پائیں گے اور ان کے ساتھ نماز پڑھیں گے، اور قسطنطنیہ کو نصاریٰ سے چھین لیں گے اور عرب و عجم کے مالک ہو جائیں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور مسجد حرام میں رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2232)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
إسناده ضعيف
ترمذي (2232)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
حدیث نمبر: 4084
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ , عَنْ ثَوْبَانَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ , كُلُّهُمُ ابْنُ خَلِيفَةٍ , ثُمَّ لَا يَصِيرُ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ , ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ , فَيَقْتُلُونَكُمْ قَتْلًا لَمْ يُقْتَلْهُ قَوْمٌ , ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ , فَقَالَ: فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ , وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ , فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ایک خزانے کے پاس تین آدمی باہم لڑائی کریں گے، ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہو گا، لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ خزانہ میسر نہ ہو گا، پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمودار ہوں گے، اور وہ تم کو ایسا قتل کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اور بھی بیان فرمایا جسے میں یاد نہ رکھ سکا، اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”لہٰذا جب تم اسے ظاہر ہوتے دیکھو تو جا کر اس سے بیعت کرو اگرچہ گھٹنوں کے بل برف پر گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4084]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خزانے کے پاس تین آدمی آپس میں جنگ کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی خلیفے کا بیٹا ہو گا۔ وہ خزانہ ان میں سے کسی کو نہیں ملے گا۔ پھر مشرق کی طرف سے سیاہ جھنڈے ظاہر ہوں گے اور وہ تم لوگوں کو اس طرح قتل کریں گے کہ پہلے کسی نے نہ کیا ہو گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مجھے یاد نہیں۔ پھر فرمایا: ”جب تم اسے دیکھو تو اس کی بیعت کرو، اگرچہ برف پر گھسٹ کر آنا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2111، ومصباح الزجاجة: 1442) (ضعیف)» (سند میں ابوقلابہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ا س لئے یہ ضعیف ہے لیکن حدیث کا معنی ابن ماجہ کی ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے، اس حدیث میں «فإنه خليفة الله المهدي» کا لفظ صحیح نہیں ہے، جس کی روایت میں ابن ماجہ یہاں منفرد ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 85)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الثوري عنعن
ولبعض الحديث شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
إسناده ضعيف
الثوري عنعن
ولبعض الحديث شواهد
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
حدیث نمبر: 4085
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ , حَدَّثَنَا يَاسِينُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ , يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اور اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو صالح بنا دے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4085]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہدی ہم میں سے، یعنی اہل بیت میں سے ہے۔ اللہ اسے ایک رات میں درست فرمائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10270، ومصباح الزجاجة: 1443)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/84) (حسن)» (ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 237)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 4086
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الرَّقِّيُّ , عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ , فَتَذَاكَرْنَا الْمَهْدِيَّ , فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْمَهْدِيُّ مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ہم ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، ہم نے مہدی کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ”مہدی فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4086]
حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھے کہ ہم نے مہدی کے بارے میں بات چیت شروع کر دی۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”مہدی، فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوگا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المھدي 1 (4284)، (تحفة الأشراف: 18153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 4087
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ الْيَمَامِيِّ , عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" نَحْنُ وَلَدَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , سَادَةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ , أَنَا , وَحَمْزَةُ , وَعَلِيٌّ , وَجَعْفَرٌ , وَالْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ , وَالْمَهْدِيُّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ہم عبدالمطلب کی اولاد ہیں، اور اہل جنت کے سردار ہیں، یعنی: میں، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4087]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”ہم عبدالمطلب کی اولاد اہل جنت کے سردار ہیں: میں (نبی صلی اللہ علیہ وسلم )، حمزہ، علی، جعفر، حسن، حسین اور مہدی رضی اللہ عنہم۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 195، ومصباح الزجاجة: 1444) (موضوع)» (علی بن زیاد ضعیف اور سعد بن عبد الحمید صدوق ہیں، لیکن ان کے یہاں غلط احادیث ہیں، اور عکرمہ بن عمار صدوق ہیں غلطی کرتے ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4688)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زياداليمامي: ضعيف (تقريب: 4733 ب) ضعفه الجمهور وعكرمة بن عمارمدلس و عنعن
وللحديث شاهد منكر جدًا عند الخطيب (434/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
إسناده ضعيف
علي بن زياداليمامي: ضعيف (تقريب: 4733 ب) ضعفه الجمهور وعكرمة بن عمارمدلس و عنعن
وللحديث شاهد منكر جدًا عند الخطيب (434/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 522
حدیث نمبر: 4088
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنَ جَزْءٍ الزَّبِيدِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ نَاسٌ مِنَ الْمَشْرِقِ , فَيُوَطِّئُونَ لِلْمَهْدِيِّ" يَعْنِي: سُلْطَانَهُ.
عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ لوگ مشرق (پورب) کی جانب سے نکلیں گے جو مہدی کی حکومت کے لیے راستہ ہموار کریں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4088]
حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرق سے کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جو مہدی کے لیے، یعنی اس کی حکومت کے لیے زمین ہموار کریں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5237، ومصباح الزجاجة: 1445) (ضعیف)» (سند میں عمرو بن جابر الحضرمی اور ابن لہیعہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن جابر: ضعيف شيعي
وابن لهيعة عنعن
وللحديث شاهد ضعيف في حلية الأولياء (53/6)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 523
إسناده ضعيف
عمرو بن جابر: ضعيف شيعي
وابن لهيعة عنعن
وللحديث شاهد ضعيف في حلية الأولياء (53/6)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 523