🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ : مَعِيشَةِ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4147
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ مِرَارًا:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ" , وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَ نِسْوَةٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باربار فرماتے سنا ہے: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! آل محمد کے پاس کسی دن ایک صاع غلہ یا ایک صاع کھجور نہیں ہوتا، اور ان دنوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4147]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی بار یہ فرماتے سنا ہے: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! آج محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے گھر والوں کے پاس ایک صاع غلہ ہے نہ ایک صاع کھجوریں۔“”ان دنوں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو بیویاں تھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1308، ومصباح الزجاجة: 1471)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 14 (2069)، سنن الترمذی/البیوع 7 (1215)، مسند احمد (3/133، 180، 208، 211، 232) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥الحسن بن موسى الأشيب، أبو علي
Newالحسن بن موسى الأشيب ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← الحسن بن موسى الأشيب
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2069
مشى إلى النبي بخبز شعير وإهالة سنخة ولقد رهن النبي درعا له بالمدينة عند يهودي وأخذ منه شعيرا لأهله ولقد سمعته يقول ما أمسى عند آل محمد صاع بر ولا صاع حب وإن عنده لتسع نسوة
جامع الترمذي
1215
ما أمسى في آل محمد صاع تمر ولا صاع حب وإن عنده يومئذ لتسع نسوة
سنن ابن ماجه
4147
ما أصبح عند آل محمد صاع حب ولا صاع تمر وإن له يومئذ تسع نسوة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4147 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4147
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
صاع کا مطلب ٹوپا ہے جو غلہ ماپنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اہل مدینہ کا صاع تقریباً ڈھائی کلو گرام ہوتا تھا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4147]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2069
2069. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور باسی چربی لے کر گئے اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زرہ مدینہ طیبہ میں ایک یہودی کے پاس گروی رکھی تھی اور اس سے اپنے اہل خانہ کے لیے کچھ جو لیے تھے۔ اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا؛ "آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کبھی شام کے وقت ایک صاع گیہوں یا کسی اور غلے کا جمع نہیں رہا حالانکہ آپ کی نوبیویاں تھیں۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2069]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتصادی زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔
خدانخواستہ آپ دنیا دار ہوتے تو یہ نوبت نہ آتی کہ ایک یہودی کے یہاں اپنی زرہ گروی رکھ کر راشن حاصل کریں اور راشن بھی جو کی شکل میں، جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نے آنے والے لوگوں کے لیے ایک عمدہ ترین نمونہ پیش فرما دیا کہ وہ دنیاوی عیش و آرام اور ناز نخروں کے وقت اسوہ محمدی کو یاد کر لیا کریں۔
مقصد باب یہ ہے کہ انسان کو زندگی میں کبھی ادھار بھی کوئی چیز خریدنی پڑتی ہے لہٰذا اس میں کوئی قباحت نہیں اور اس سے غیر مسلموں کے ساتھ لین دین کا تعلق بھی ثابت ہوا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2069]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2069
2069. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور باسی چربی لے کر گئے اور اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک زرہ مدینہ طیبہ میں ایک یہودی کے پاس گروی رکھی تھی اور اس سے اپنے اہل خانہ کے لیے کچھ جو لیے تھے۔ اور میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا؛ "آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کبھی شام کے وقت ایک صاع گیہوں یا کسی اور غلے کا جمع نہیں رہا حالانکہ آپ کی نوبیویاں تھیں۔ " [صحيح بخاري، حديث نمبر:2069]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملۂ قرض کے ساتھ مقید کیا ہے جبکہ کتاب الاستقراض میں اسے مطلق طور پر بیان کیا ہے،مقصد یہ ہے کہ ادھار پر اشیاء کی خریدوفروخت جائز ہے،اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت نہیں۔
(2)
دراصل امام بخاری رحمہ اللہ ان حضرات کی تردیدد کرنا چاہتے ہیں جو ادھار کا معاملہ کرنے کو ناجائز کہتے ہیں۔
ان کی دلیل سنن ابی داود کی ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار پر کچھ سامان خریدا، بعد میں فرمایا:
"آئندہ میں اس وقت خریدو فروخت کروں گا جب میرے پاس اس کی قیمت ہوگی۔
"(سنن ابی داود،البیوع،حدیث: 3344)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے اس حدیث کے ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ یہودی سے گروی زرہ کے عوض جو خریدنے کا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری حصے میں پیش آیا حتی کہ آپ قیمت ادا کرکے گروی شدہ زرہ واپس نہیں لے سکے تھے۔
بہر حال ادھار معاملہ کرنا جائز ہے۔
(3)
واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سود خور یہودی سے قرض کا معاملہ کیا لیکن کسی مسلمان سے قرض نہیں لیا کیونکہ مسلمان عقیدت کی بنا پر آپ کو مفت دے دیتا لیکن آپ کو کسی کا احسان لینا پسند نہیں تھا۔
والله اعلم.
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2069]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1215
کسی چیز کو مدت کے وعدے پر خریدنے کی رخصت کا بیان۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی جس میں کچھ تبدیلی آ چکی تھی لے کر چلا، آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس بیس صاع غلے کے عوض جسے آپ نے اپنے گھر والوں کے لیے لے رکھا تھا گروی رکھی ہوئی تھی ۱؎ قتادہ کہتے ہیں میں نے ایک دن انس رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس ایک صاع کھجور یا ایک صاع غلہ شام کو نہیں ہوتا تھا جب کہ اس وقت آپ کے پاس نو بیویاں تھیں۔ [سنن ترمذي/كتاب البيوع/حدیث: 1215]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے معلوم ہواکہ اہل کتاب سے ادھار وغیرہ کا معاملہ کرنا جائز ہے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام ؓمیں سے کسی سے ادھارلینے کے بجائے ایک یہودی سے اس لیے ادھارلیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اہل کتاب سے اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے،
یا اس لیے کہ صحابہ کرام ؓ آپ سے کوئی معاوضہ یا رقم واپس لینا پسند نہ فرماتے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبع غیورکو یہ بات پسند نہیں تھی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1215]

Sunan Ibn Majah Hadith 4147 in Urdu