🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب في البناء والخراب
باب: گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4162
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سَعِيدِ بِنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ , عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَنَيْتُ بَيْتًا يُكِنُّنِي مِنَ الْمَطَرِ , وَيُكِنُّنِي مِنَ الشَّمْسِ , مَا أَعَانَنِي عَلَيْهِ خَلْقُ اللَّهِ تَعَالَى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیکھا کہ میں نے ایک گھر بنایا جو مجھے بارش اور دھوپ سے بچائے، اور اللہ کی مخلوق نے میری اس میں (گھر بنانے میں) کوئی مدد نہیں کی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاستئذان 53 (6302)، (تحفة الأشراف: 7076) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن عمرو الأموي، أبو عثمان، أبو عنبسة
Newسعيد بن عمرو الأموي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥إسحاق بن سعيد القرشي
Newإسحاق بن سعيد القرشي ← سعيد بن عمرو الأموي
ثقة
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← إسحاق بن سعيد القرشي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← الفضل بن دكين الملائي
ثقة حافظ جليل
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4162 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4162
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
گھر کا اصل مقصد بارش اور دھوپ سے بچاؤ اپنی نجی کا تحفظ اور پردے کا اہتمام ہے۔
یہ فائدہ معمولی گھر سے بھی اسی طرح حاصل ہوتا ہے جس طرح مزین اور خوبصورت کوٹھیوں سے حاصل ہوتا ہے اس لیے ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا بے فائدہ ہے۔

(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ذاتی ضروریات کے لیے سادہ سے سادہ اہتمام کرتے تھے اور باقی مال اللہ کی راہ میں اور دوسروے مسلمانوں کی مدد کے لیے خرچ کردیتے تھے یہی سادگی مسلمان کی اصل شان ہے۔

(3)
کسی کے مدد نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے تیار نہیں تھے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اتنا معمولی گھر تھا کہ خود ہی بنا لیا کسی سے مدد لینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4162]