سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. باب : التوقي على العمل
باب: عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4198
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ سورة المؤمنون آية 60 , أَهُوَ يُضَافُ الرَّجُلُ الَّذِي يَزْنِي وَيَسْرِقُ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ , قَالَ:" لَا , يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , أَوْ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ , وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَيُصَلِّي , وَهُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُتَقَبَّلَ مِنْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» (سورة الومنون: 60) سے کیا وہ لوگ مراد ہیں جو زنا کرتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں: ابوبکر کی بیٹی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزے رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے، اور نماز پڑھتا ہے، اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کا یہ عمل قبول نہ ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4198]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! (اللہ کا فرمان ہے:) ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ [سورة المؤمنون: 60] ”وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں جو دینا ہوتا ہے دیتے ہیں اور ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں۔“ کیا اس سے مراد وہ آدمی ہے جو زنا، چوری اور شراب نوشی کا مرتکب ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اے ابوبکر کی بیٹی!“ یا فرمایا: ”نہیں، اے صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ آدمی ہے جو روزہ رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اسے ڈر رہتا ہے کہ شاید (اس کا عمل) قبول نہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 24 (3175)، (تحفة الأشراف: 16301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/159، 205) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
3175
| لا يا بنت الصديق ولكنهم الذين يصومون ويصلون ويتصدقون وهم يخافون أن لا يقبل منهم أولئك الذين يسارعون في الخيرات وهم لها سابقون |
سنن ابن ماجه |
4198
| لا يا بنت الصديق ولكنه الرجل يصوم ويتصدق ويصلي وهو يخاف أن لا يتقبل منه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4198 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4198
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نیک اعمال کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے لیکن عمل پر بھروسا کر کے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
(2)
بظاہر ایک صحیح عمل میں بھی ایسی خامی ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے وہ قبول نہ ہو۔
(3)
عمل کرکے اس کی قبولیت کے لیے اللہ سے درخواست کرتے رہنا چاہیے۔
(4)
نیکی پر فخر کرنا جائز نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
نیک اعمال کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے لیکن عمل پر بھروسا کر کے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
(2)
بظاہر ایک صحیح عمل میں بھی ایسی خامی ہوسکتی ہے جس کی وجہ سے وہ قبول نہ ہو۔
(3)
عمل کرکے اس کی قبولیت کے لیے اللہ سے درخواست کرتے رہنا چاہیے۔
(4)
نیکی پر فخر کرنا جائز نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4198]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3175
سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ”جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں، جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں (کہ قبول ہو گا یا نہیں)“ (المؤمنون: ۶۰)، کا مطلب پوچھا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اور چوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، صدیق کی صاحبزادی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں قبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات (بھلے کاموں) میں ایک دو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3175]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ”جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں، جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں (کہ قبول ہو گا یا نہیں)“ (المؤمنون: ۶۰)، کا مطلب پوچھا: کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اور چوری کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، صدیق کی صاحبزادی! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں قبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات (بھلے کاموں) میں ایک دو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3175]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں،
جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں (کہ قبول ہو گا یا نہیں) (المؤمنون: 60)
وضاحت:
1؎:
جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں،
جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں (کہ قبول ہو گا یا نہیں) (المؤمنون: 60)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3175]
Sunan Ibn Majah Hadith 4198 in Urdu
عبد الرحمن بن سعيد الخيواني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق