سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ : التَّوَقِّي عَلَى الْعَمَلِ
باب: عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4200
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ , عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ أَبُو الزِّنَادِ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فِي الْعَلَانِيَةِ فَأَحْسَنَ , وَصَلَّى فِي السِّرِّ فَأَحْسَنَ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: هَذَا عَبْدِي حَقًّا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جب بندہ سب کے سامنے نماز پڑھتا ہے تو اچھی طرح پڑھتا ہے، اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھی طرح پڑھتا ہے، (ایسے ہی بندے کے متعلق) اللہ عزوجل فرماتا ہے: یہ حقیقت میں میرا بندہ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4200]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ دوسروں کے سامنے بھی نماز اچھی پڑھے اور چھپ کر (تنہائی میں) بھی نماز اچھی پڑھے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ واقعی میرا بندہ ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13936، ومصباح الزجاجة: 1495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/537) (ضعیف)» (سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف
بقية عنعن (تقدم:551) وقال أبو حاتم : ” هذا حديث منكر ، يشبه أن يكون من حديث عباد بن كثير “ (علل الحديث 189/1 ،ح+541)
بقية عنعن (تقدم:551) وقال أبو حاتم : ” هذا حديث منكر ، يشبه أن يكون من حديث عباد بن كثير “ (علل الحديث 189/1 ،ح+541)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4200
| العبد إذا صلى في العلانية فأحسن وصلى في السر فأحسن قال الله هذا عبدي حقا |
Sunan Ibn Majah Hadith 4200 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي