سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب : الثناء الحسن
باب: لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4221
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ , عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّبَا أَوْ الْنَبَاوَةِ , قَالَ: وَالنَّبَاوَةُ مِنْ الطَّائِفِ , قَالَ:" يُوشِكُ أَنْ تَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ" , قَالُوا: بِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ , وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ , أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ".
ابوزہیر ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نباوہ یا بناوہ (طائف کے قریب ایک مقام ہے) میں خطبہ دیا، اور فرمایا: ”تم جلد ہی جنت والوں کو جہنم والوں سے تمیز کر لو گے“، لوگوں نے سوال کیا: کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی تعریف اور بری تعریف کرنے سے تم ایک دوسرے کے اوپر اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4221]
حضرت ابوزہیر (معاذ بن رباح) ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نباوہ یا بناوہ کے مقام پر خطاب فرمایا، یہ مقام طائف کے قریب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے تم جنتیوں اور جہنمیوں کو الگ الگ پہچان لو۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کس علامت سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھی رائے کے اظہار سے اور بری رائے کے اظہار سے، تم ایک دوسرے پر اللہ کے گواہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12043، ومصباح الزجاجة: 1508)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/416، 466)، سنن الدارمی/الرقاق 17 (2767) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4221
| يوشك أن تعرفوا أهل الجنة من أهل النار |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4221 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4221
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نیک آدمی اسی کی تعریف کرسکتا ہے جس میں وہ واقعی اچھی صفات دیکھے کیونکہ متقی خوشامد اور چاپلوسی نہیں کرسکتا۔
(2)
نیک متقی آدمی اسی کو برا کہے گا جس میں واقعی بری عادات موجود ہوں کیونکہ وہ جھوٹ بول کر کسی کو بدنام نہیں کرتا۔
(3)
اچھی تعریف (یا لوگوں کی اچھی رائے)
سے مراد ہر قسم کے عوام کی رائے نہیں بلکہ توحید وسنت پر کار بند نیک لوگوں کی رائے مراد ہے جن میں سب سے بلند مقام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا ہے لہٰذا جس شخص کے بارے میں ایسے عظیم افراد اچھی رائے رکھتےہوں وہ یقیناً نیک اور جنتی ہوگا۔
(4)
خوارج معتزلہ اور جہمیہ وغیرہ کے گمراہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ صحابہ اور تابعین نے ان کی آراء کو غلط قراردیا ہےاور پوری قوت سے ان کی تردید فرمائی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
نیک آدمی اسی کی تعریف کرسکتا ہے جس میں وہ واقعی اچھی صفات دیکھے کیونکہ متقی خوشامد اور چاپلوسی نہیں کرسکتا۔
(2)
نیک متقی آدمی اسی کو برا کہے گا جس میں واقعی بری عادات موجود ہوں کیونکہ وہ جھوٹ بول کر کسی کو بدنام نہیں کرتا۔
(3)
اچھی تعریف (یا لوگوں کی اچھی رائے)
سے مراد ہر قسم کے عوام کی رائے نہیں بلکہ توحید وسنت پر کار بند نیک لوگوں کی رائے مراد ہے جن میں سب سے بلند مقام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا ہے لہٰذا جس شخص کے بارے میں ایسے عظیم افراد اچھی رائے رکھتےہوں وہ یقیناً نیک اور جنتی ہوگا۔
(4)
خوارج معتزلہ اور جہمیہ وغیرہ کے گمراہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ صحابہ اور تابعین نے ان کی آراء کو غلط قراردیا ہےاور پوری قوت سے ان کی تردید فرمائی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4221]
Sunan Ibn Majah Hadith 4221 in Urdu
أبو بكر بن أبي زهير الثقفي ← معاذ بن رباح الثقفي