یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب : الأمل والأجل
باب: انسان کی آرزو اور عمر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4235
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ , لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ مَعَهُمَا ثَالِثٌ , وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَهُ إِلَّا التُّرَابُ , وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ابن آدم (انسان) کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ یہ تمنا کرے گا کہ ایک تیسری وادی اور ہو، مٹی کے علاوہ اس کے نفس کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس کی توبہ قبول کرتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4235]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں بھی بھری ہوئی ہوں تو وہ چاہتا ہے کہ ان کے ساتھ تیسری وادی بھی ہو، اور انسان کا دل صرف مٹی سے بھرتا ہے، البتہ جو شخص توبہ کرے اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14049، ومصباح الزجاجة: 1514) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4235
| لو أن لابن آدم واديين من مال لأحب أن يكون معهما ثالث |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4235 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4235
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مال کی محبت انسان میں فطری طور پر موجود ہے جس میں دنیا اور آخرت کی کئی مصلحتیں پوشیدہ ہیں تاہم اس میں حد سے بڑھ جانا گمراہی کا باعث ہے۔
(2)
مال کی حرص جائز حد سے آگے بڑھ جائے تو حق تلفی، بخل، فرائض میں کوتاہی اور اس قسم کی دوسری خرابیوں کا باعث بن جاتی ہے اس لیے ان بداعمالیوں سے بچنے کے لیے مال کی محبت کو جائز حد سے آگے نہیں بڑھنے دینا چاہیے۔
(3)
مال کی محبت کا علاج یہ ہے کہ فرض زکاۃ اور واجب اخراجات کے علاوہ بھی نیکی کی راہ میں زیادہ مال خرچ کرنے کی کوشش کی جائے۔
(4)
مال کی ناجائز محبت سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
(5)
دل مٹی سے بھرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل زندگی بھر سیر نہیں ہوتا۔
جب مٹی میں جائے گا اور قبر میں دفن ہوگا تب اس کی حرص ختم ہوگی اور دل سیر ہوگا کیونکہ وہاں ثواب اور عذاب کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس کے بعد دنیا کی طرف توجہ ممکن نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
مال کی محبت انسان میں فطری طور پر موجود ہے جس میں دنیا اور آخرت کی کئی مصلحتیں پوشیدہ ہیں تاہم اس میں حد سے بڑھ جانا گمراہی کا باعث ہے۔
(2)
مال کی حرص جائز حد سے آگے بڑھ جائے تو حق تلفی، بخل، فرائض میں کوتاہی اور اس قسم کی دوسری خرابیوں کا باعث بن جاتی ہے اس لیے ان بداعمالیوں سے بچنے کے لیے مال کی محبت کو جائز حد سے آگے نہیں بڑھنے دینا چاہیے۔
(3)
مال کی محبت کا علاج یہ ہے کہ فرض زکاۃ اور واجب اخراجات کے علاوہ بھی نیکی کی راہ میں زیادہ مال خرچ کرنے کی کوشش کی جائے۔
(4)
مال کی ناجائز محبت سے توبہ کرنا ضروری ہے۔
(5)
دل مٹی سے بھرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل زندگی بھر سیر نہیں ہوتا۔
جب مٹی میں جائے گا اور قبر میں دفن ہوگا تب اس کی حرص ختم ہوگی اور دل سیر ہوگا کیونکہ وہاں ثواب اور عذاب کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس کے بعد دنیا کی طرف توجہ ممکن نہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4235]
Sunan Ibn Majah Hadith 4235 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي