سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب : ذكر التوبة
باب: توبہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4248
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدِينِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمُ السَّمَاءَ , ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَيْكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم گناہ کرو یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تم توبہ کرو تو (اللہ تعالیٰ) ضرور تمہاری توبہ قبول کرے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4248]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم اتنی غلطیاں کرو کہ تمہاری غلطیاں آسمان تک پہنچ جائیں، پھر تم توبہ کرو تو (پھر بھی) اللہ تمہاری توبہ قبول کرے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14830، ومصباح الزجاجة: 1519) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ بندہ کے گناہ چاہے وہ جتنے زیادہ ہوں، ان کی مغفرت کے لئے کی جانے والی توبہ کو اللہ تعالی ضرور قبول کرے گا، بشرطیکہ یہ توبہ خلوص دل سے ہو، اس حدیث سے یہ قطعاً نہ سمجھا جائے کہ گناہ کثرت سے کئے جائیں اور پھر توبہ کر لی جائے، کیونکہ حدیث میں توبہ کی اہمیت بتائی گئی ہے، نہ کہ بکثرت گناہ کرنے کی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥يزيد بن الأصم العامري، أبو عوف يزيد بن الأصم العامري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥جعفر بن برقان الكلابي، أبو عبد الله جعفر بن برقان الكلابي ← يزيد بن الأصم العامري | ثقة في غير الزهري، وضعيف في حديث الزهري | |
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية محمد بن خازم الأعمى ← جعفر بن برقان الكلابي | ثقة | |
👤←👥يعقوب بن كاسب المدني، أبو يوسف يعقوب بن كاسب المدني ← محمد بن خازم الأعمى | صدوق يهم |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
4248
| لو أخطأتم حتى تبلغ خطاياكم السماء ثم تبتم لتاب عليكم |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4248 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4248
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ ضروری ہے کہ انسان گناہ کے بعد جلد از جلد توبہ کرے۔
تاہم اگر نفس اور شیطان کے بہکاوے او ر دل کی غفلت کی وجہ سے جلد توبہ نہ کی جا سکے تو جب بھی احساس ہوتوبہ کرلینی چاہیے۔
یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اتنے گناہ ہو گئے ہیں۔
وہ معاف نہیں ہوں گے۔
البتہ توبہ وہ ہے جو دل سے ہو۔
صرف زبان سے نہ ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
یہ ضروری ہے کہ انسان گناہ کے بعد جلد از جلد توبہ کرے۔
تاہم اگر نفس اور شیطان کے بہکاوے او ر دل کی غفلت کی وجہ سے جلد توبہ نہ کی جا سکے تو جب بھی احساس ہوتوبہ کرلینی چاہیے۔
یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اتنے گناہ ہو گئے ہیں۔
وہ معاف نہیں ہوں گے۔
البتہ توبہ وہ ہے جو دل سے ہو۔
صرف زبان سے نہ ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4248]
Sunan Ibn Majah Hadith 4248 in Urdu
يزيد بن الأصم العامري ← أبو هريرة الدوسي