سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب : ذكر الشفاعة
باب: شفاعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4317
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرُونَ مَا خَيَّرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ؟" , قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ , فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ" , قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِهَا , قَالَ:" هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ".
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے کس بات کا اختیار دیا ہے“؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میری آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا“، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شفاعت ہر مسلمان کو شامل ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4317]
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں کو معلوم ہے کہ آج رات میرے رب نے مجھے کس انتخاب کا حق عنایت فرمایا؟“ ہم نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے مجھے آدھی امت کے جنت میں داخلے اور شفاعت میں سے کوئی ایک چیز منتخب کرنے کا اختیار دیا، تو میں نے شفاعت کو منتخب کر لیا۔“ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ سے دعا کیجیے کہ ہمیں بھی شفاعت پانے والوں میں شامل فرما دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10909)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة القیامة 13 (2441) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2441
| خيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة |
سنن ابن ماجه |
4317
| خيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 4317 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4317
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اسلام پہ فوت ہو۔
(2)
شفاعت کی امید پہ گناہ کرتے چلے جانا عقل مندی نہیں۔
کیونکہ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جنکے نتیجے میں ایمان کی نعمت چھین بھی سکتی ہے
(3)
مزید فوائد کے لیے ملاحظہ فرمائیں حدیث نمبر: 4311
فوائد ومسائل:
(1)
شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہے جو اسلام پہ فوت ہو۔
(2)
شفاعت کی امید پہ گناہ کرتے چلے جانا عقل مندی نہیں۔
کیونکہ بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جنکے نتیجے میں ایمان کی نعمت چھین بھی سکتی ہے
(3)
مزید فوائد کے لیے ملاحظہ فرمائیں حدیث نمبر: 4311
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4317]
Sunan Ibn Majah Hadith 4317 in Urdu
سليم بن عامر الكلاعي ← عوف بن مالك الأشجعي