یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. . باب : من احتلم ولم ير بللا
باب: جسے احتلام ہو اور تری نہ دیکھے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْعُمَرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَرَأَى بَلَلًا، وَلَمْ يَرَ أَنَّهُ احْتَلَمَ اغْتَسَلَ، وَإِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ، وَلَمْ يَرَ بَلَلًا فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، اور تری دیکھے، لیکن احتلام یاد نہ ہو تو غسل کر لے، اور اگر احتلام یاد ہو لیکن تری نہ دیکھے تو اس پر غسل نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 612]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو اور اسے (جسم یا کپڑوں پر) گیلا پن (مادہ منویہ) نظر آئے اور اسے خواب یاد نہ ہو، وہ غسل کرے اور اگر اسے محسوس ہو کہ اس نے خواب (میں غسل واجب کرنے والا عمل) دیکھا ہے اور (بیدار ہونے پر) گیلا پن نظر نہ آئے تو اس پر کوئی غسل نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 95 (236)، سنن الترمذی/الطہارة 82 (113)، (تحفة الأشراف: 17539)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/256)، سنن الدارمی/الطہارة 77 (792) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 516)»
وضاحت: ۱؎: لیکن تری سے مراد منی ہے، اگر تری محسوس نہ ہو تو اکثر اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہ ہو گا، اگر گرمی یا دیری کے سبب منی خشک ہو جائے، تو غسل ضروری ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (236) ترمذي (113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (236) ترمذي (113)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 400
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
612
| إذا استيقظ أحدكم من نومه فرأى بللا ولم ير أنه احتلم اغتسل وإذا رأى أنه قد احتلم ولم ير بللا فلا غسل عليه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 612 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث612
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم یہ روایت اور بھی کئی طرق سے مروی ہے، بنا بریں بعض محققین کے نزدیک یہ روایت ان طرق کی وجہ سے قوی ہوجاتی ہے۔ دیکھیے:
(الموسوعة الحديثيه: 43؍265؍266)
، ’شیخ البانی ؒ نے بھی اسے حسن کہا ہے۔ دیکھیے: (مشكوة للألباني، حديث: 441)
علاوہ ازیں صحیح مسلم کی روایت سے بھی اس میں بیان کردہ مسئلے کا اثبات ہوتا ہے، وہ روایت یہ ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور پوچھا کہ کیا احتلام ہونے کی صورت میں (جس طرح مرد غسل کرتا ہے)
عورت پر بھی غسل ہے؟ آپ نے فرمایا:
ہاں، جب وہ پانی دیکھے۔ (صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 313)
اس سے واضح ہے کہ اس معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
خواب (حالت نیند)
میں جس کو بھی احتلام ہوجائے، اسے یاد ہو یا نہ یاد ہو لیکن اگر اس کے کپڑے گیلے ہوں تو اس پر غسل واجب ہے۔
بشرطیکہ اس کے کپڑے اس طرح گیلے نہ ہوجیسے پیشاب کے گیلے ہوتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اس پر غسل واجب نہیں ہوگا۔
اور اگر اسے خواب میں احتلام تو یاد ہو لیکن اس کی کوئی علامت (نمی)
اس کے کپڑوں پر نہ ہوتو غسل واجب نہیں ہوگا۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم یہ روایت اور بھی کئی طرق سے مروی ہے، بنا بریں بعض محققین کے نزدیک یہ روایت ان طرق کی وجہ سے قوی ہوجاتی ہے۔ دیکھیے:
(الموسوعة الحديثيه: 43؍265؍266)
، ’شیخ البانی ؒ نے بھی اسے حسن کہا ہے۔ دیکھیے: (مشكوة للألباني، حديث: 441)
علاوہ ازیں صحیح مسلم کی روایت سے بھی اس میں بیان کردہ مسئلے کا اثبات ہوتا ہے، وہ روایت یہ ہے کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور پوچھا کہ کیا احتلام ہونے کی صورت میں (جس طرح مرد غسل کرتا ہے)
عورت پر بھی غسل ہے؟ آپ نے فرمایا:
ہاں، جب وہ پانی دیکھے۔ (صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 313)
اس سے واضح ہے کہ اس معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
خواب (حالت نیند)
میں جس کو بھی احتلام ہوجائے، اسے یاد ہو یا نہ یاد ہو لیکن اگر اس کے کپڑے گیلے ہوں تو اس پر غسل واجب ہے۔
بشرطیکہ اس کے کپڑے اس طرح گیلے نہ ہوجیسے پیشاب کے گیلے ہوتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اس پر غسل واجب نہیں ہوگا۔
اور اگر اسے خواب میں احتلام تو یاد ہو لیکن اس کی کوئی علامت (نمی)
اس کے کپڑوں پر نہ ہوتو غسل واجب نہیں ہوگا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 612]
Sunan Ibn Majah Hadith 612 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق