سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ : النَّهْيِ أَنْ يُقَالَ صَلاَةُ الْعَتَمَةِ
باب: عشاء کو عتمہ کی نماز کہنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 705
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . ح وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَغْلِبَنَّكُمْ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ"، زَادَ ابْنُ حَرْمَلَةَ،" فَإِنَّمَا هِيَ الْعِشَاءُ، وَإِنَّمَا يَقُولُونَ الْعَتَمَةُ لِإِعْتَامِهِمْ بِالْإِبِلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعراب (بدوی) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب نہ آ جائیں“، ابن حرملہ نے یہ اضافہ کیا ہے: اس کا نام «عشاء» ہے، اور یہ اعرابی اسے اس وقت اپنی اونٹنیوں کے دوہنے کی وجہ سے «عتمه» کہتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 705]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعرابی تمہاری نماز کے بارے میں تم پر غالب نہ آ جائیں۔“ ابن حرملہ نے اپنی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے: ”یہ عشاء ہے، وہ اندھیرا ہونے پر دودھ دوہنے کی وجہ سے اس (نماز) کو بھی «الْعَتَمَةُ» ”اندھیرے کی نماز“ کہتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13065، ومصباح الزجاجة: 705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/433، 438) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
705
| لا تغلبنكم الأعراب على اسم صلاتكم زاد ابن حرملة فإنما هي العشاء وإنما يقولون العتمة لإعتامهم بالإبل |
Sunan Ibn Majah Hadith 705 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي