Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : السنة في الأذان
باب: اذان کی سنتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 713
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ بِلَالٌ لَا يُؤَخِّرُ الْأَذَانَ عَنِ الْوَقْتِ، وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2178، ومصباح الزجاجة:)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 29 (606)، سنن ابی داود/الصلاة 44 (537)، سنن الترمذی/الصلاة 34 (202) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 227)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اقامت اس وقت تک نہ ہوتی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ مبارکہ سے باہر نہ آ جاتے، اور آپ کو دیکھ کر بلال رضی اللہ عنہ اقامت شروع کرتے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك عنعن
وحديث أبي داود (403) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 404

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله
Newشريك بن عبد الله القاضي ← سماك بن حرب الذهلي
صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شريك بن عبد الله القاضي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← أبو داود الطيالسي
ثقة ثبت
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 713 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث713
اردو حاشہ:
(1)
ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنداً ضعیف قرار دیا جبکہ دیگر محققین نے شواہد کی وجہ سے احسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد بن حنبل: 435/34 حديث: 20849)
وارواء الغليل رقم: 227)
لہٰذا شواہد کی بناء پر یہ حدیث قابل حجت اور قابل عمل ہے۔

(2)
اذان اس چیز کا اعلان ہے کہ نماز کا وقت شروع ہوگیا ہے۔
اس لیے اذان اول وقت دینی چاہیے جب کہ اقامت نماز شروع ہونے کی اطلاع ہے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اس وقت اقامت کہتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آتے۔

(3)
اگر امام کو نماز پڑھانے کے لیے آنے میں مقرر وقت سے کچھ تاخیر ہوجائے تو امام کا انتظار کرنا چاہیے۔
جلدی مچانا اور فوراً کسی دوسرے آدمی کو آگے کردینا درست نہیں۔
ہاں اگر معلوم ہو کہ امام صاحب موجود نہیں اور وہ نماز پڑھانے کے لیے مسجد میں نہیں آئیں گے پھر کسی اور شخص کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 713]